کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سورۂ شعراء کے نزول کے وقت سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کی گھبراہٹ اور نبی کریم ﷺ کا انہیں تسلی دینا
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفّان، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن الوليد بن كَثير، عن يزيد بن عبد الله بن قُسَيط، عن أبي الحسن مولى بني نَوفَل: أنَّ عبد الله بن رَوَاحة وحسّانَ بن ثابت أتَيا رسولَ الله ﷺ حين نزلت ﴿طسم﴾ الشعراء يبكيان، وهو يقرأُ عليهم: ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ حتَّى بلغ ﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ قال: "أنتم" ﴿وَذَكَرُوا الله كَثِيرًا﴾ قال: "أنتم" ﴿وَانتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا﴾ قال: "أنتم" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6064 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
بنو نوفل کے مولیٰ ابوالحسن سے روایت ہے کہ جب سورۃ الشعراء کی یہ آیت ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ [سورة الشعراء: 224] ”اور شاعروں کی پیروی تو بہکے ہوئے لوگ کرتے ہیں“ نازل ہوئی تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہما روتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ ان کے سامنے تلاوت فرما رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ اس حصے پر پہنچے ﴿إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ ”سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے مراد تم لوگ ہو،“ پھر جب پڑھا ﴿وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا﴾ ”اور جنہوں نے اللہ کو کثرت سے یاد کیا“ تو فرمایا: ”اس سے مراد تم ہو،“ اور جب پڑھا ﴿وَانتَصَرُوا مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا﴾ ”اور جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیے جانے کے بعد (حق کی خاطر) بدلہ لیا“ تو فرمایا: ”اس سے مراد بھی تم ہی ہو۔“ [سورة الشعراء: 227]
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6179
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات وهو مرسل أبو الحسن مولى بني نوفل تابعيّ صغير
تخریج حدیث «رجاله ثقات وهو مرسل أبو الحسن مولى بني نوفل تابعيّ صغير، ولم يبين ممن سمعه.» [ترقيم الرساله 6179] [ترقيم الشركة 6119] [ترقيم العلميه 6064]
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن أنس، حَدَّثَنَا عبد الله بن بكر السَّهْمي، حَدَّثَنَا حاتم بن أبي صَغيرة أبو يونس القُشَيري، عن سِماك بن حَرْب، رَفَعَ الحديثَ. وعن حاتم (1)، عن السُّدِي، عن البَراء بن عازبٍ: أنَّ رسول الله ﷺ أُتيَ فقيل: يا رسول الله، إنَّ أبا سفيان بن الحارث بن عبد المطَّلب يَهجُوك، فقام ابن رَوَاحة فقال: يا رسول الله، ائذَنْ لي فيه، فقال: "أنت الذي تقول: يُثبِّتُ اللهُ؟ قال: نعم، قلت يا رسول الله: يُثبِّتُ اللهُ ما أعطاك من حَسَنٍ … تثبيتَ موسى ونَصرًا مثل ما نُصِرا قال: "وأنت يفعلُ اللهُ بك خيرًا مثل ذلك". قال: ثم وَثَبَ كعبٌ، فقال: يا رسول الله، ائذَنْ لي فيه، قال: "أنت الذي تقول: هَمَّتْ؟ " قال: نعم يا رسول الله: هَمَّتْ سَخِينةُ أن تُغالبَ ربَّها … فَلَيُغلَبنَّ مُغالِبُ الغُلَّابِ قال: "أمَا إِنَّ الله لم يَنسَ ذلك لك" (2). قال: ثم قام حسّانُ فقال: يا رسول الله، ائذَنْ لي فيه، وأخرج لسانًا له أسودَ، فقال: يا رسول الله، ائذَنْ لي إن شئتُ أفرَيتُ به المَزادَ، فقال: "اذهبْ إلى أبي بكرٍ ليحدِّثَك حديثَ القوم وأيامَهم وأحسابَهم، واهجُهُمْ وجِبريلُ معك" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. إنما أخرجه مسلم بطوله من حديث الليث بن سعد عن خالد بن يزيد. ذكرُ مناقب مَخرَمة بن نَوفَل القُرشي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6065 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! بے شک ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب آپ کی ہجو (برائی) کرتا ہے، تو سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے اس کی ہجو کرنے کی اجازت عطا فرمائیں،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم وہی ہو جس نے یہ کہا تھا کہ اللہ ثابت قدم رکھے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، میں نے کہا تھا: «يُثبِّتُ اللهُ مَا أَعْطَاكَ مِنْ حَسَنٍ … تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا مِثْلَ مَا نُصِرَا» ”اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو حسن و خوبی عطا فرمائی ہے اسے اسی طرح ثبات عطا کرے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو ثبات دیا اور آپ کی ایسی ہی مدد فرمائے جیسی ان کی کی گئی تھی،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور اللہ تمہارے ساتھ بھی ویسا ہی بھلائی والا معاملہ فرمائے۔“ پھر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے اس کی ہجو کرنے کی اجازت دیں،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم وہی ہو جس نے کہا تھا: «هَمَّتْ»؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ: «هَمَّتْ سَخِينةُ أَنْ تُغَالِبَ رَبَّهَا … فَلَيُغلَبَنَّ مُغَالِبُ الغُلَّابِ» ”قبیلہ قریش نے اپنے رب پر غالب آنے کا ارادہ کیا، تو مغلوب کر دیا جائے گا وہ جو تمام غالب آنے والوں پر غالب آنے والے (اللہ) کا مقابلہ کرنا چاہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آگاہ رہو کہ اللہ تمہاری اس بات کو نہیں بھولا۔“ پھر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں،“ اور انہوں نے اپنی سیاہ زبان نکال کر دکھائی اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں، اگر آپ چاہیں تو میں اپنی زبان سے ان کی آبرو کے مشکیزوں کو پھاڑ ڈالوں،“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ابوبکر کے پاس جاؤ تاکہ وہ تمہیں اس قوم کی تاریخ، ان کے ایام اور ان کے حسب و نسب سے آگاہ کریں، پھر تم ان کی ہجو کرو اور جبرائیل تمہارے ساتھ ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے اسے خالد بن یزید کی روایت سے طویل نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6180
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أما من جهة سماك بن حرب فلإرساله، وأما من جهة السدي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن - فلانقطاعه، فأغلب الظن أنه لم يسمع من البراء، والله تعالى أعلم. وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 4/ 325، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 12/ 504 ...» [ترقيم الرساله 6180] [ترقيم الشركة 6120] [ترقيم العلميه 6065]