حدیث نمبر: 6179
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفّان، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن الوليد بن كَثير، عن يزيد بن عبد الله بن قُسَيط، عن أبي الحسن مولى بني نَوفَل: أنَّ عبد الله بن رَوَاحة وحسّانَ بن ثابت أتَيا رسولَ الله ﷺ حين نزلت ﴿طسم﴾ الشعراء يبكيان، وهو يقرأُ عليهم: ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ حتَّى بلغ ﴿وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ قال: "أنتم" ﴿وَذَكَرُوا الله كَثِيرًا﴾ قال: "أنتم" ﴿وَانتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا﴾ قال: "أنتم" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6064 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

بنو نوفل کے مولیٰ ابوالحسن سے روایت ہے کہ جب سورۃ الشعراء کی یہ آیت ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ [سورة الشعراء: 224] ”اور شاعروں کی پیروی تو بہکے ہوئے لوگ کرتے ہیں“ نازل ہوئی تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہما روتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ ان کے سامنے تلاوت فرما رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ اس حصے پر پہنچے ﴿إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ ”سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے مراد تم لوگ ہو،“ پھر جب پڑھا ﴿وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا﴾ ”اور جنہوں نے اللہ کو کثرت سے یاد کیا“ تو فرمایا: ”اس سے مراد تم ہو،“ اور جب پڑھا ﴿وَانتَصَرُوا مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا﴾ ”اور جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیے جانے کے بعد (حق کی خاطر) بدلہ لیا“ تو فرمایا: ”اس سے مراد بھی تم ہی ہو۔“ [سورة الشعراء: 227]

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6179
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات وهو مرسل أبو الحسن مولى بني نوفل تابعيّ صغير
تخریج حدیث «رجاله ثقات وهو مرسل أبو الحسن مولى بني نوفل تابعيّ صغير، ولم يبين ممن سمعه.» [ترقيم الرساله 6179] [ترقيم الشركة 6119] [ترقيم العلميه 6064]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) رجاله ثقات وهو مرسل أبو الحسن مولى بني نوفل تابعيّ صغير، ولم يبين ممن سمعه.
درجۂ حدیث: اس کے راوی ثقہ ہیں مگر یہ روایت 'مرسل' ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الحسن مولیٰ بنی نوفل چھوٹے تابعی ہیں اور انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ روایت کس سے سنی ہے۔
أبو أسامة: هو حماد بن أسامة، وأبو الحسن مولى بني نوفل لا يعرف اسمه.
فنی نکتہ / علّت: ابو اسامہ سے مراد حماد بن اسامہ ہیں اور ابو الحسن مولیٰ بنی نوفل کا نام معلوم نہیں ہے۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 9/ 2834 عن أبي سعيد الأشج، عن أبي أسامة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" (9/ 2834) میں ابو سعید الاشج کے واسطے سے ابو اسامہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه ابن أبي شيبة 8/ 518 - 519، والطبري في "تفسيره" 19/ 128 - 129، وابن أبي حاتم 9/ 2834 من طريق محمد بن إسحاق، عن يزيد بن عبد الله بن قسيط، عن أبي الحسن البراد قال: لما نزلت … إلخ. وعند الطبري: عن أبي الحسن سالم البراد مولي تميم!
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (8/ 518-519)، طبری (19/ 128-129) اور ابن ابی حاتم (9/ 2834) نے محمد بن اسحاق عن یزید بن عبد اللہ بن قسیط کے طریق سے روایت کیا ہے کہ ابو الحسن البراد نے کہا: "جب یہ نازل ہوئی..." الخ۔ طبری کے ہاں نام "ابو الحسن سالم البراد مولیٰ تمیم" مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6179 سے ماخوذ ہے۔