حدیث نمبر: 6180
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن أنس، حَدَّثَنَا عبد الله بن بكر السَّهْمي، حَدَّثَنَا حاتم بن أبي صَغيرة أبو يونس القُشَيري، عن سِماك بن حَرْب، رَفَعَ الحديثَ. وعن حاتم (1)، عن السُّدِي، عن البَراء بن عازبٍ: أنَّ رسول الله ﷺ أُتيَ فقيل: يا رسول الله، إنَّ أبا سفيان بن الحارث بن عبد المطَّلب يَهجُوك، فقام ابن رَوَاحة فقال: يا رسول الله، ائذَنْ لي فيه، فقال: "أنت الذي تقول: يُثبِّتُ اللهُ؟ قال: نعم، قلت يا رسول الله: يُثبِّتُ اللهُ ما أعطاك من حَسَنٍ … تثبيتَ موسى ونَصرًا مثل ما نُصِرا قال: "وأنت يفعلُ اللهُ بك خيرًا مثل ذلك". قال: ثم وَثَبَ كعبٌ، فقال: يا رسول الله، ائذَنْ لي فيه، قال: "أنت الذي تقول: هَمَّتْ؟ " قال: نعم يا رسول الله: هَمَّتْ سَخِينةُ أن تُغالبَ ربَّها … فَلَيُغلَبنَّ مُغالِبُ الغُلَّابِ قال: "أمَا إِنَّ الله لم يَنسَ ذلك لك" (2). قال: ثم قام حسّانُ فقال: يا رسول الله، ائذَنْ لي فيه، وأخرج لسانًا له أسودَ، فقال: يا رسول الله، ائذَنْ لي إن شئتُ أفرَيتُ به المَزادَ، فقال: "اذهبْ إلى أبي بكرٍ ليحدِّثَك حديثَ القوم وأيامَهم وأحسابَهم، واهجُهُمْ وجِبريلُ معك" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. إنما أخرجه مسلم بطوله من حديث الليث بن سعد عن خالد بن يزيد. ذكرُ مناقب مَخرَمة بن نَوفَل القُرشي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6065 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! بے شک ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب آپ کی ہجو (برائی) کرتا ہے، تو سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے اس کی ہجو کرنے کی اجازت عطا فرمائیں،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم وہی ہو جس نے یہ کہا تھا کہ اللہ ثابت قدم رکھے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، میں نے کہا تھا: «يُثبِّتُ اللهُ مَا أَعْطَاكَ مِنْ حَسَنٍ … تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا مِثْلَ مَا نُصِرَا» ”اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو حسن و خوبی عطا فرمائی ہے اسے اسی طرح ثبات عطا کرے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو ثبات دیا اور آپ کی ایسی ہی مدد فرمائے جیسی ان کی کی گئی تھی،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور اللہ تمہارے ساتھ بھی ویسا ہی بھلائی والا معاملہ فرمائے۔“ پھر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے اس کی ہجو کرنے کی اجازت دیں،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم وہی ہو جس نے کہا تھا: «هَمَّتْ»؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ: «هَمَّتْ سَخِينةُ أَنْ تُغَالِبَ رَبَّهَا … فَلَيُغلَبَنَّ مُغَالِبُ الغُلَّابِ» ”قبیلہ قریش نے اپنے رب پر غالب آنے کا ارادہ کیا، تو مغلوب کر دیا جائے گا وہ جو تمام غالب آنے والوں پر غالب آنے والے (اللہ) کا مقابلہ کرنا چاہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آگاہ رہو کہ اللہ تمہاری اس بات کو نہیں بھولا۔“ پھر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں،“ اور انہوں نے اپنی سیاہ زبان نکال کر دکھائی اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں، اگر آپ چاہیں تو میں اپنی زبان سے ان کی آبرو کے مشکیزوں کو پھاڑ ڈالوں،“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ابوبکر کے پاس جاؤ تاکہ وہ تمہیں اس قوم کی تاریخ، ان کے ایام اور ان کے حسب و نسب سے آگاہ کریں، پھر تم ان کی ہجو کرو اور جبرائیل تمہارے ساتھ ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے اسے خالد بن یزید کی روایت سے طویل نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6180
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أما من جهة سماك بن حرب فلإرساله، وأما من جهة السدي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن - فلانقطاعه، فأغلب الظن أنه لم يسمع من البراء، والله تعالى أعلم. وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 4/ 325، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 12/ 504 ...» [ترقيم الرساله 6180] [ترقيم الشركة 6120] [ترقيم العلميه 6065]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: جابر، والصواب أنه حاتم، وهو ابن أبي صغيرة المذكور، ويؤيده ما في "طبقات ابن سعد".
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر 'جابر' ہو گیا ہے جبکہ درست نام 'حاتم' ہے، اور یہ حاتم بن ابی صغیرہ ہیں جن کا ذکر ہوا، اس کی تائید "طبقات ابن سعد" سے بھی ہوتی ہے۔
(2) قوله: "قال: أما إنَّ الله لم ينس ذلك لك" ليس في (ص) و (م)، وهو ثابت في (ز) و (ب) إلَّا أنه كتب فوقه في (ز): لا … إلى، وذلك إشارة إلى حذفه وأثبتناه موافقة لنسخة (ب) ولأنه في رواية ابن سعد في "الطبقات".
نوٹ / توضیح: جملہ "اللہ تمہارے لیے اسے نہیں بھولے گا" نسخہ (ص) اور (م) میں نہیں ہے، جبکہ (ز) اور (ب) میں موجود ہے۔ نسخہ (ز) میں اس پر حذف کا اشارہ تھا مگر ہم نے نسخہ (ب) اور "طبقات ابن سعد" کے مطابق اسے برقرار رکھا ہے۔
(3) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أما من جهة سماك بن حرب فلإرساله، وأما من جهة السدي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن - فلانقطاعه، فأغلب الظن أنه لم يسمع من البراء، والله تعالى أعلم. وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 4/ 325، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 12/ 504 عن عبد الله بن بكر السهمي، بالإسنادين.
درجۂ حدیث: یہ روایت 'حسن لغیرہ' ہے، اگرچہ یہ سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سماک بن حرب کی جانب سے 'ارسال' ہے اور سدی (اسماعیل بن عبد الرحمن) کی جانب سے 'انقطاع' ہے کیونکہ غالب گمان یہ ہے کہ انہوں نے حضرت براء بن عازب سے نہیں سنا۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے 'الطبقات' (4/ 325) میں اور ان کے واسطے سے ابن عساکر نے 'تاریخ دمشق' (12/ 504) میں عبد اللہ بن بکر السہمی سے دونوں سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقوله الحسان: "اهجهم وجبريل معك" صحيح، قد ثبت عن البراء من غير هذا الوجه، انظر ما سبق برقم (6133).
اہم نکتہ: حضرت حسان کے لیے یہ جملہ کہ "ان کی ہجو کرو اور جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں" بالکل صحیح ہے، اور یہ حضرت براء سے دوسرے طرق سے ثابت ہے (دیکھیں سابقہ حدیث رقم 6133)۔
وفي الباب ما يشهد لطوله بمعناه عند مسلم (2490) من حديث الليث عن خالد بن يزيد بإسناده إلى عائشة، وليس هو من حديث البراء بن عازب كما يُفهم من كلام المصنّف بإثر الحديث.
متابعات و شواہد: اس باب میں امام مسلم (2490) کی لیث عن خالد بن یزید والی طویل روایت حضرت عائشہ سے مروی ہے جو اس کے معنی کی شاہد ہے، یہ حضرت براء کی حدیث نہیں ہے جیسا کہ مصنف کے کلام سے شبہ ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6180 سے ماخوذ ہے۔