کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: شراب پینے والے کو اللہ تعالیٰ پاکیزگی عطا نہیں فرماتا
فحدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: وثَوبانُ مولى رسول الله ﷺ، وهو فيما قيل: من أهل السَّرَاة، وقيل: إنه من حِمْيَر، أصابه السَّبيُ، فاشتراه رسول الله ﷺ فأعتقه، فلم يَزَلْ مع رسول الله ﷺ حتَّى قُبِضَ، فتحوّل إلى الشام ونزل حِمْص، وله بها دارُ صدقةٍ، ومات بها سنة أربعٍ وخمسين.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ثوبان رضی اللہ عنہ کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ اہل سراۃ میں سے تھے، اور ایک قول یہ ہے کہ وہ حمیر سے تھے، وہ قیدی ہو کر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا، وہ رسول اللہ ﷺ کے وصال مبارک تک آپ ﷺ کی خدمت میں رہے، پھر شام منتقل ہو گئے اور حمص میں سکونت اختیار کی، وہاں ان کا ایک گھر ہے جو بطورِ صدقہ وقف ہے، اور ان کی وفات 54 ہجری میں وہیں ہوئی۔
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق ﵀، أخبرنا علي بن عبد العزيز، أخبرنا إسحاق بن إسماعيل الطّالْقاني، حَدَّثَنَا مَسْعَدةُ بن اليَسَع، عن الخَصِيب بن جَحْدَر، عن النَّضْر بن شُفَيّ، عن أبي أسماءَ، عن ثوبانَ قال: قال لي رسولُ الله ﷺ: "إذا حلفتَ على معصيةٍ فدَعْها، واقذِفْ ضَغائنَ الجاهلية تحت قَدَمِك، وإياكَ وشُربَ الخمر، فإنَّ الله ﵎ لم يُقدِّسْ شارِبَها" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6037 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6037 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابو اسماء سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اگر تم کسی گناہ کے کام پر قسم کھا لو تو (اس قسم کو توڑ کر) اسے چھوڑ دو، اور جاہلیت کے تمام کینہ و کپٹ کو اپنے قدموں تلے روند ڈالو، اور خبردار! شراب نوشی سے بچنا، کیونکہ اللہ عزوجل نے شراب پینے والے کو پاکیزہ قرار نہیں دیا۔“