حدیث نمبر: 6152
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا عِمران بن عبد الرحيم، حَدَّثَنَا علي بن قَرِين الباهلي، حَدَّثَنَا سعيد بن راشد عن الخليل بن مُرَّة، عن حُميد الأعرج، عن مجاهد، عن ابن عبّاس، عن ثَوْبان، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال: "إنَّ الدُّعاءَ يَرُدُّ القضاءَ، وإنَّ البرَّ يزيدُ في الرِّزق، وإنَّ العبدَ ليُحرَمُ الرزقَ بالذَّنْب يُصيبُه" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6038 - ابن قرين كذاب
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک دعا تقدیر کو ٹال دیتی ہے، اور نیکی عمر اور رزق میں اضافے کا باعث بنتی ہے، اور یقیناً بندہ اس گناہ کی وجہ سے جو اس سے سرزد ہوتا ہے، (مقدر شدہ) رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6152
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «موضوع، قال الذهبي في "تلخيص المستدرك": ابن قرين كذاب، وسعيد واهٍ، وشيخه ضعّفه ابن معين.» [ترقيم الرساله 6152] [ترقيم الشركة 6093] [ترقيم العلميه 6038]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) موضوع، قال الذهبي في "تلخيص المستدرك": ابن قرين كذاب، وسعيد واهٍ، وشيخه ضعّفه ابن معين.
درجۂ حدیث: یہ روایت "موضوع" (من گھڑت) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی "تلخیص المستدرک" میں فرماتے ہیں کہ ابن قرین کذاب ہے، سعید واہی (انتہائی کمزور) ہے اور اس کے شیخ کو ابن معین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
قلنا: ويغني عنه ما سلف برقم (1835) بإسناد أرجى من هذا من حديث عبد الله بن أبي الجعد عن ثوبان، وقد حسَّنّاه هناك بشواهده دون قوله: "وإنَّ الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه".
اہم نکتہ: اس موضوع روایت کی جگہ حضرت ثوبان کی وہ حدیث کافی ہے جو پہلے نمبر (1835) پر گزر چکی ہے اور اس کی سند اس سے کہیں بہتر ہے۔
درجۂ حدیث: ہم نے وہاں شواہد کی بنا پر اسے "حسن" قرار دیا تھا، سوائے اس جملے کے کہ "بے شک آدمی اپنے گناہ کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6152 سے ماخوذ ہے۔