المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
لَمْ يُقَدِّسِ اللَّهُ شَارِبَ الْخَمْرِ باب: شراب پینے والے کو اللہ تعالیٰ پاکیزگی عطا نہیں فرماتا
حدیث نمبر: 6151
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق ﵀، أخبرنا علي بن عبد العزيز، أخبرنا إسحاق بن إسماعيل الطّالْقاني، حَدَّثَنَا مَسْعَدةُ بن اليَسَع، عن الخَصِيب بن جَحْدَر، عن النَّضْر بن شُفَيّ، عن أبي أسماءَ، عن ثوبانَ قال: قال لي رسولُ الله ﷺ: "إذا حلفتَ على معصيةٍ فدَعْها، واقذِفْ ضَغائنَ الجاهلية تحت قَدَمِك، وإياكَ وشُربَ الخمر، فإنَّ الله ﵎ لم يُقدِّسْ شارِبَها" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6037 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
ابو اسماء سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اگر تم کسی گناہ کے کام پر قسم کھا لو تو (اس قسم کو توڑ کر) اسے چھوڑ دو، اور جاہلیت کے تمام کینہ و کپٹ کو اپنے قدموں تلے روند ڈالو، اور خبردار! شراب نوشی سے بچنا، کیونکہ اللہ عزوجل نے شراب پینے والے کو پاکیزہ قرار نہیں دیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) موضوع، النضر بن شفي مجهول جدًّا؛ كما قال ابن القطان، والخصيب بن جحدر أحد الكذابين، ومسعدة بن اليسع أحد المتروكين، انظر "لسان الميزان" لابن حجر 8/ 276، أبو أسماء: هو الرَّحَبي.
درجۂ حدیث: یہ روایت "موضوع" (من گھڑت) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کا راوی نضر بن شفی انتہائی مجہول ہے، خصیب بن جحدر کذاب (جھوٹا) ہے اور مسعدہ بن الیسع متروک ہے۔ (دیکھئے: لسان المیزان 8/ 276)۔
اہم نکتہ: ابو اسماء سے مراد الرحبی ہیں۔
وأخرجه المستغفري في "فضائل القرآن" (155) بأطول مما هنا من طريق الحسن بن دينار، عن خصيب بن جحدر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام مستغفری نے "فضائل القرآن" (155) میں الحسن بن دینار عن خصیب بن جحدر کے طریق سے یہاں سے زیادہ طویل روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ روایت "موضوع" (من گھڑت) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کا راوی نضر بن شفی انتہائی مجہول ہے، خصیب بن جحدر کذاب (جھوٹا) ہے اور مسعدہ بن الیسع متروک ہے۔ (دیکھئے: لسان المیزان 8/ 276)۔
اہم نکتہ: ابو اسماء سے مراد الرحبی ہیں۔
وأخرجه المستغفري في "فضائل القرآن" (155) بأطول مما هنا من طريق الحسن بن دينار، عن خصيب بن جحدر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام مستغفری نے "فضائل القرآن" (155) میں الحسن بن دینار عن خصیب بن جحدر کے طریق سے یہاں سے زیادہ طویل روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6151 سے ماخوذ ہے۔