کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا عبد اللہ بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حَدَّثَنَا أبو عُلَاثة، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، حَدَّثَنَا أبو الأسود، عن عُرْوة قال: وقُتِل يوم الطائف من المسلمين من بني تَيْم بن مُرَّة عبدُ الله بن أبي بكر، رُمِيَ بسهم، فمات بعد ذلك بخمسين يومًا.
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوہ طائف کے دن مسلمانوں میں سے بنو تیم بن مرہ کے سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ (زخمی ہوئے)، انہیں ایک تیر لگا تھا جس کے اثر سے پچاس دن بعد ان کی وفات ہو گئی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6131
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6131] [ترقيم الشركة 6073]
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفّان العامِري، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: كان الذي يختلفُ بالطعام إلى رسول الله ﷺ وأبي بكرٍ في الغار عبدُ الله بنُ أبي بكر (1).
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: غار (ثور) میں قیام کے دوران رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تک کھانا پہنچانے کی ذمہ داری سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ہی نبھایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6132
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رجاله ثقات. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.» [ترقيم الرساله 6132] [ترقيم الشركة 6074]
أخبرني محمد بن الحسين الشَّيباني، حَدَّثَنَا أحمد بن حماد بن زُغْبة، حَدَّثَنَا سعيد بن عُفَير، قال: مات عبدُ الله بن أبي بكر في السنة التي ماتت فيها فاطمةُ ﵂، بعد وفاةِ رسولِ الله ﷺ (2).
حافظ طلحہ بابر
سعید بن عفیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی وفات اسی سال ہوئی جس میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی تھی، یعنی رسول اللہ ﷺ کے وصال مبارک کے بعد (11 ہجری میں)۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6133
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6133] [ترقيم الشركة 6075]
أخبرني أبو عبد الله محمد بن العبّاس الشهيد ﵀، حَدَّثَنَا أبو العبّاس الدَّغُولي، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الكريم، حَدَّثَنَا الهيثم بن عَدي، حَدَّثَنَا أسامة بن زيد، عن القاسم بن محمدٍ قال: رُمي عبدُ الله بن أبي بكر بسَهمٍ يومَ الطائف، فانتَقضَتْ به بعدَ وفاة رسول الله ﷺ بأربعين ليلةً فمات، فدخل أبو بكر على عائشة فقال: أيْ بُنيّةُ، واللهِ لكأنما أُخذَ بأُذُن شاةٍ فأُخرِجتْ من دارنا، فقالت: الحمد لله الذي رَبَط على قلبك، وعَزَمَ لك على رُشْدِك. فخرج ثم دخل فقال: أي بُنيَّة، أتخافون أن تكونوا دَفنتُم عبدَ الله وهو حيّ؟ فقالت: إنا الله وإنا إليه راجعون يا أَبَهْ، فقال: أَستعيذُ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم؛ أيْ بُنيَّة إنه ليس أحدٌ إِلَّا وله لَمَّتانِ: لَمَّة من الملَك، ولَمَّة من الشيطان، قال: فقَدِمَ عليه وفدُ ثقيف، ولم يَزَلْ ذلك السهمُ عنده، فأُخرِجَ إليهم فقال: هل يعرفُ هذا السَّهمَ منكم أحد؟ فقال سعيد بن عبيد أخو بني العَجْلان: هذا سهمٌ أنا بَرَيتُه ورِشْتُه وعَقَبْتُه، وأنا رميتُ به (1)، فقال أبو بكر: فإنَّ هذا السهمَ الذي قَتَلَ عبدَ الله بن أبي بكر، فالحمد لله الذي أكرمَه بيدِك ولم يُهِنْكَ بيده، فإنه واسعُ الحِمَى (2).
حافظ طلحہ بابر
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو غزوہ طائف کے دن ایک تیر لگا تھا، پھر رسول اللہ ﷺ کے وصال کے چالیس دن بعد وہ زخم دوبارہ ہرا ہو گیا اور ان کا انتقال ہو گیا، پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے پیاری بیٹی! اللہ کی قسم، (ان کا دنیا سے جانا ایسا ہی ہے) گویا ایک بکری کو اس کے کان سے پکڑ کر ہمارے گھر سے باہر نکال دیا گیا ہو،“ تو انہوں نے جواب دیا: ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے آپ کے دل کو (صبر پر) مضبوط رکھا اور آپ کو ہدایت پر ثابت قدم رکھا۔“ پھر وہ باہر نکلے اور دوبارہ اندر آ کر پوچھا: ”اے پیاری بیٹی! کیا تمہیں یہ ڈر تو نہیں کہ تم لوگوں نے عبداللہ کو زندہ ہی دفن کر دیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اے اباجان! «إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»،“ تو انہوں نے فرمایا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں شیطان مردود سے اللہ سمیع و علیم کی پناہ مانگتا ہوں؛ اے بیٹی! ہر انسان کے ساتھ دو اثر انداز ہونے والی قوتیں (وسوسے) ہوتی ہیں: ایک فرشتے کی طرف سے اور ایک شیطان کی طرف سے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ان کے پاس بنو ثقیف کا وفد آیا اور وہ تیر ابھی تک ان کے پاس محفوظ تھا، تو وہ تیر ان کے سامنے لایا گیا اور پوچھا: ”کیا تم میں سے کوئی اس تیر کو پہچانتا ہے؟“ تو بنو عجلان کے بھائی سعید بن عبید نے کہا: ”یہ وہ تیر ہے جسے میں نے تراشا، اس پر پر لگائے، اس کی پچھلی جانب تانت باندھی اور میں نے ہی اسے چلایا تھا،“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یقیناً یہی وہ تیر ہے جس نے عبداللہ بن ابی بکر کو شہید کیا، پس تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے تیرے ہاتھ سے انہیں شہادت کی عزت عطا کی اور ان کے ہاتھ سے تجھے (کفر کی حالت میں مار کر) رسوا نہیں کیا، کیونکہ اللہ کی پناہ گاہ بہت وسیع ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6134
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف
تخریج حدیث «إسناده تالف، الهيثم بن عدي ساقط متهم بالكذب.» [ترقيم الرساله 6134] [ترقيم الشركة 6076]
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا أبو معاوية، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشةَ قالت: كُفِّن رسولُ الله ﷺ في بُرْدَينِ حِبَرةٍ كانا لعبد الله بن أبي بكر، ولُفّ فيهما ثم نُزِعا عنه، فكان عبد الله بن أبي بكر قد أمسَك تلك الحُلَّة لنفسِه حتَّى يُكفَّنَ فيها إذا مات، ثم قال بعد أن أمسَكَها: ما كنتُ لأُمسِكَ لنفسي شيئًا مَنَعَ اللهُ رسولَه ﷺ أن يُكفَّنَ فيه، فتصدَّق بها عبد الله (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6022 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یمنی دھاری دار چادروں کے دو ٹکڑوں میں کفن دیا گیا تھا جو سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کی ملکیت تھے، آپ ﷺ کو ان میں لپیٹا گیا اور پھر انہیں اتار لیا گیا، سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے وہ جوڑا اپنے پاس محفوظ کر لیا تھا تاکہ مرنے کے بعد انہیں اس میں کفن دیا جائے، پھر اسے روک لینے کے بعد انہوں نے خود سے کہا: ”میں اپنے لیے وہ چیز کیسے رکھ سکتا ہوں جس میں, اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو کفن دیے جانے سے روک دیا (یعنی وہ چادریں اتار لی گئی تھیں)،“ چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وہ چادریں صدقہ کر دیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6135
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار: وهو العطاردي.» [ترقيم الرساله 6135] [ترقيم الشركة 6077] [ترقيم العلميه 6022]