کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: فتحِ مکہ سے پہلے سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ہجرت
أخبرنا الحسن بن محمد الأزهري، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن البراء، أخبرنا علي بن عبد الله المَدِيني، حَدَّثَنَا سفيان بن عُيينة، عن علي بن زيد بن جُدْعان: أنَّ عبد الرحمن بن أبي بكر في فِتيةٍ من قريشٍ هاجروا إلى النَّبِيّ ﷺ قبلَ الفَتح (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6003 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6003 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
علی بن زید بن جدعان سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ قریش کے ان نوجوانوں میں شامل تھے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے نبی کریم ﷺ کی طرف ہجرت کی تھی۔
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: وعبدُ الرحمن بن أبي بكر الصدِّيق لم يَزَلْ على دين قومه في الشِّرك حتَّى شَهِدَ بدرًا مع المشركين، ودعا إلى البِرَازِ، فقام إليه أبوه أبو بكر ليبارزَه، فذَكَر أنَّ رسول الله ﷺ قال لأبي بكر: "متِّعنا بنَفْسِكَ". ثم إِنَّ عبد الرحمن أسلَمَ في هُدْنة الحُديبيَة، وكان يُكنَى أبا عبد الله، ومات سنة ثلاثٍ وخمسين في إمارة معاوية بن أبي سفيان، وكان لعبدِ الرحمن من الولد: أبو عَتِيق، ويقال لولده: بنو أبي عَتِيق (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ (ابتدا میں) اپنی قوم کے مشرکانہ دین پر ہی قائم رہے یہاں تک کہ وہ مشرکین کی طرف سے غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور انہوں نے مقابلے کے لیے للکارا، تو ان کے مقابلے کے لیے ان کے والد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنی ذات کے ذریعے ہمیں (اپنے وجود سے) نفع پہنچاتے رہیں (یعنی لڑائی سے پیچھے ہٹ جائیں)۔“ پھر سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ کے دور میں اسلام لائے، ان کی کنیت ابو عبداللہ تھی اور ان کی وفات 53 ہجری میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی، سیدنا عبدالرحمن کی اولاد میں سے ایک بیٹے کا نام ابو عتیق تھا اور ان کی اولاد کو بنو ابی عتیق کہا جاتا ہے۔
أخبرنا أبو العبّاس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا عبد الله بن علي الغزّال، حَدَّثَنَا علي بن الحسن بن شَقِيق، حَدَّثَنَا عبد الله بن المبارَك، عن مَعمَر، عن أيوب قال: قال عبدُ الرحمن بن أبي بكر لأبي بكر: قد رأيتُك يومَ أحد فصِفتُ عنك، فقال أبو بكر: لكنِّي لو رأيتُك لم أَصِفُ عنك (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6005 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6005 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ایوب سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں نے آپ کو غزوہ احد کے دن (نشانے پر) دیکھا تھا لیکن میں نے آپ سے پہلو تہی کی (یعنی باپ ہونے کی وجہ سے وار نہیں کیا)۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”لیکن اگر میں تمہیں دیکھ لیتا تو میں ہرگز تم سے پہلو تہی نہ کرتا (یعنی حق کی خاطر تم پر وار کر دیتا)۔“