المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
هِجْرَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَبْلَ الْفَتْحِ باب: فتحِ مکہ سے پہلے سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ہجرت
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: وعبدُ الرحمن بن أبي بكر الصدِّيق لم يَزَلْ على دين قومه في الشِّرك حتَّى شَهِدَ بدرًا مع المشركين، ودعا إلى البِرَازِ، فقام إليه أبوه أبو بكر ليبارزَه، فذَكَر أنَّ رسول الله ﷺ قال لأبي بكر: "متِّعنا بنَفْسِكَ". ثم إِنَّ عبد الرحمن أسلَمَ في هُدْنة الحُديبيَة، وكان يُكنَى أبا عبد الله، ومات سنة ثلاثٍ وخمسين في إمارة معاوية بن أبي سفيان، وكان لعبدِ الرحمن من الولد: أبو عَتِيق، ويقال لولده: بنو أبي عَتِيق (1).
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ (ابتدا میں) اپنی قوم کے مشرکانہ دین پر ہی قائم رہے یہاں تک کہ وہ مشرکین کی طرف سے غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور انہوں نے مقابلے کے لیے للکارا، تو ان کے مقابلے کے لیے ان کے والد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنی ذات کے ذریعے ہمیں (اپنے وجود سے) نفع پہنچاتے رہیں (یعنی لڑائی سے پیچھے ہٹ جائیں)۔“ پھر سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ کے دور میں اسلام لائے، ان کی کنیت ابو عبداللہ تھی اور ان کی وفات 53 ہجری میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی، سیدنا عبدالرحمن کی اولاد میں سے ایک بیٹے کا نام ابو عتیق تھا اور ان کی اولاد کو بنو ابی عتیق کہا جاتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اہم نکتہ: محمد بن عمر سے مراد الواقدی ہیں، اور یہ تذکرہ ان کی کتاب "المغازی" (1/ 257) میں موجود ہے۔
وذكره ابن سعد في "الطبقات" 5/ 21 بدون إسناد، وكذا ابن عبد البر في "الاستيعاب".
حوالہ / مصدر: ابن سعد نے "الطبقات" (5/ 21) میں اور ابن عبد البر نے "الاستیعاب" میں اسے بغیر سند کے ذکر کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي 8/ 186 عن أبي عبد الله الحاكم، عن أبي عبد الله الأصبهاني، عن الحسن بن الجهم، عن الحسين بن الفرج، عن الواقدي، عن عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن أبيه، فذكره إلى قوله: أسلم في هدنة الحديبية.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے (8/ 186) میں واقدی عن ابی الزناد کے طریق سے روایت کیا ہے جس میں ان کے صلحِ حدیبیہ کے دوران اسلام لانے کا ذکر ہے۔
وأخرج ابن عساكر في "تاريخه" 28/ 35 من طريق أبي بكر بن أبي الدنيا، عن محمد بن سعد قال: عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق، ويكنى أبا عبد الله، أسلم في هدنة الحديبية، ومات سنة ثلاث وخمسين.
حوالہ / مصدر: ابن عساکر نے ابن ابی الدنیا کے طریق سے محمد بن سعد کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی، وہ صلحِ حدیبیہ میں اسلام لائے اور 53 ہجری میں وفات پائی۔