کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حَدَّثَنَا أبو خَليفة، حَدَّثَنَا محمد بن سلَّام الجُمَحي، حَدَّثَنَا أبو عُبيدة مَعْمَر بن المُثنّى قال: كان اسمُ عبد الرحمن بن (1) أبي بكر في الجاهلية عبدَ العُزّى، فسمّاه رسولُ الله ﷺ عبدَ الرحمن (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کے فضائل کا ذکر۔ ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: دورِ جاہلیت میں سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا نام ”عبد العزیٰ“ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بدل کر ”عبدالرحمن“ رکھ دیا۔
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثني مُصعب بن عبد الله الزُّبيريُّ قال: كان عبد الرحمن بن أبي بكر يُكْنَى أبا عبد الله، وقيل: أبو محمد، وأُمُّه وأُمُّ عائشة: أمُّ رُومان بنت عامر بن عُوَيمر بن عبد شمس بن عبد مَنَاف، أسلَمَتْ أُمُّ رُومان وحَسُنَ إسلامها، وقال فيها رسولُ الله ﷺ: "مَن أحبَّ أن يَنظُرَ إلى امرأةٍ من الحُورِ العِين، فلينظُر إلى أُمُّ رُومان" (3). وتُوفِّيت أم رُومان في ذي الحِجَّة سنة ستٍّ من الهجرة.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ تھی اور ایک قول کے مطابق ابو محمد تھی، ان کی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ سیدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر تھیں۔ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا مشرف بہ اسلام ہوئیں اور ان کا اسلام بہت عمدہ ثابت ہوا، ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص یہ پسند کرے کہ حورِ عین (جنت کی حوروں) میں سے کسی خاتون کو دیکھے،، وہ امِّ رومان کو دیکھ لے۔“ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کی وفات ذوالحجہ 6 ہجری میں ہوئی۔
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، أخبرنا (1) المَعْمَريُّ، قال: سمعتُ أبا بكر بن أبي شَيْبة يقول: كان اسم عبد الرحمن بن أبي بكر عبد العُزَّى، فسمّاه رسولُ الله ﷺ عبدَ الرحمن، ويُكْنَى أبا محمد، وكان شَهِدَ فتحَ دمشق، فنفَّلَه عمرُ (2) ليلى بنتَ الجُودِيِّ مَلِكِ دمشق، وكان لها عاشقًا (3).
حافظ طلحہ بابر
احمد بن یعقوب ثقفی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوبکر بن ابی شیبہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا نام (زمانہ جاہلیت میں) عبد العزى تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بدل کر عبد الرحمن رکھ دیا، ان کی کنیت ابو محمد تھی، وہ فتح دمشق میں حاضر ہوئے تھے، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دمشق کے بادشاہ جودی کی صاحبزادی لیلیٰ کو انہیں بطورِ انعام عطا کیا تھا کیونکہ وہ آپ اس سے پیار کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الإمام وعليُّ بن حَمْشاذ العدل، قالا: حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، حدثني يحيى (1) بن يحيى الغَسّاني، قال: سمعتُ عُرْوة بن الزُّبير يقول: أخبرني عبد الرحمن بن أبي بكر الصدِّيق: أنهم خرجوا إلى الشام في رَكَبَةٍ من أهل مكة يَمْتارُون (2)، فأَتَوا امرأةً يقال لها: ليلى، فرأَوا من هيئتها وجمالها، فرجع عبد الرحمن بن أبي بكر وهو يتشبَّب بها: تذكَّرتُ ليلى والسَّماوَةُ دونَها (3) … فما لابنةِ الجُودِيِّ ليلى وما لِيَا وأَنَّى تَعاطَى (4) قَلْبُهُ (5) حارِثِيَّةً … تَحُلُّ بِبُصْرَى أو تَحُلُّ المَآتِيَا فلمّا كان زمنُ خالد بن الوليد وافتَتَحَ الشام، أصابوها فيما أصابوا من السَّبْي، فكلَّم عبدُ الرحمن بن أبي بكر فيها خالدًا، فكتب في ذلك إلى أبي بكرٍ، فكتب أبو بكرٍ أن يُعطُوها إياه (6).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6002 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6002 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ مجھے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ مکہ کے چند سواروں کے ساتھ غلہ حاصل کرنے کی غرض سے شام کی طرف نکلے، پس وہ لیلیٰ نامی ایک عورت کے پاس پہنچے اور اس کی ہیئت و خوبصورتی کو دیکھا، پھر جب سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو وہ اس کے بارے میں یہ اشعار پڑھ رہے تھے: ”میں نے لیلیٰ کو یاد کیا جبکہ مقامِ سماوہ ابھی سامنے تھا، پس جودی کی بیٹی لیلیٰ کا مجھ سے کیا تعلق اور میرا اس سے کیا واسطہ؟ اور میرا دل ایسی حارثیہ عورت کی طلب کیسے کرنے لگا جو مقامِ بصریٰ یا مآتیہ میں مقیم ہے؟“ پھر جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور انہوں نے شام فتح کیا، تو مسلمانوں کو حاصل ہونے والے جنگی قیدیوں میں وہ خاتون بھی مل گئی، سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے بات کی، تو انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس سلسلے میں خط لکھا، جس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط لکھا کہ وہ خاتون انہیں (عبدالرحمن کو) دے دی جائے۔