کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کا اچانک انتقال
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَقَفي، حَدَّثَنَا موسى بن زكريا التُّستَري، حَدَّثَنَا خليفة بن خيّاط قال: مات عبد الرحمن بن أبي بكر فُجاءةً، وكنيتُه أبو عبد الله، مات سنة ثلاثٍ وخمسين (3).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی وفات اچانک ہوئی، ان کی کنیت ابو عبداللہ تھی اور وہ 53 ہجری میں فوت ہوئے۔
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن النَّضر، حَدَّثَنَا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق الفَزَاري، عن منصور بن عبد الرحمن، عن أُمه صفيةَ بنت شَيْبة قالت: قَدِمَتْ عائشةُ فأتيتُها أُعزِّيها بأخيها عبد الرحمن، فقالت: رَحِمَ الله أخي، إنَّ أكثرَ ما أجدُ في نفسي منها أنه لم يُدفَن حيثُ مات. قالت: وكان أخوها قد توفي بالحُبْشيِّ، فخرَجَت إليه قريشٌ فَحَمَلوه إلى أعلى مكة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6007 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6007 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
صفیہ بنت شیبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو میں ان کے بھائی سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی وفات پر ان سے تعزیت کرنے گئی، انہوں نے فرمایا: ”اللہ میرے بھائی پر رحم فرمائے، مجھے ان کے بارے میں سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ انہیں وہاں دفن نہیں کیا گیا جہاں ان کا انتقال ہوا تھا۔“ راویہ کہتی ہیں کہ ان کے بھائی کی وفات ”حبشی“ (مکہ کے قریب ایک جگہ) میں ہوئی تھی، تو قریش کے لوگ وہاں گئے اور انہیں اٹھا کر بالائی مکہ لے آئے۔