کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی وجہ سے قتل کیا گیا
سمعت أبا عليٍّ الحافظ يقول: سمعت ابن قُتَيبة يقول: سمعت إبراهيم بن يعقوب يقول: قد أدرَكَ حُجْرُ بن عَدِيٍّ الجاهليةَ، وأكَلَ الدَّمَ فيها، ثم صَحِبَ رسول الله ﷺ وسمع منه، وشَهِدَ مع عليّ بن أبي طالب له الجَمَل وصِفِّينَ، وقُتِل في مُوالاةِ عليّ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ نے جاہلیت کا زمانہ پایا تھا اور اس دور میں (جاہلیت کی رسم کے مطابق) خون بھی چکھا تھا، پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحابیت کا شرف حاصل کیا اور آپ ﷺ سے احادیث سنیں، انہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ جمل اور صفین میں شرکت کی، اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفاداری ہی کے سبب شہید کیے گئے۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حَدَّثَنَا أحمد بن عُبيد الله النَّرْسي. حَدَّثَنَا عمرو بن عاصمٍ الكِلَابيُّ، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيّب، عن مروان بن الحَكَم قال: دخلتُ مع معاوية على أُم المؤمنين عائشة، فقالت: يا معاوية، قتلتَ حُجْرًا وأصحابَه، وفعلتَ الذي فعلتَ! وذَكَرَ الحكايةَ بطولها (2). ذكرُ مناقب عِمْران بن الحُصَين الخُزاعي ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
مروان بن حکم سے روایت ہے کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے فرمایا: ”اے معاویہ! تم نے حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کر دیا اور وہ سب کچھ کیا جو تم نے کیا!“ پھر راوی نے یہ طویل واقعہ ذکر کیا۔