کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی وصیت جب انہیں قتل کیا گیا
حَدَّثَنَا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا أحمد بن عُبيد الله النَّرْسي، حَدَّثَنَا موسى بن داود الضَّبِّي، حَدَّثَنَا قيس بن لربيع، عن أشعث، عن محمد بن سِيرِين: قال حُجْر بن عَدِي: لا تَغْسِلوا عني دمًا، ولا تُطلِقوا عنِّي قيدًا، وادفنوني في ثيابي، فإنّا نلتقي غدًا بالجادَّة (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5979 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5979 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ نے (بوقتِ شہادت) فرمایا: ”مجھ سے خون نہ دھونا، میری بیڑیاں نہ کھولنا اور مجھے میرے انہی کپڑوں میں دفن کر دینا، کیونکہ ہم کل (قیامت کے دن) بڑی شاہراہ پر (اللہ کے حضور) ملیں گے۔“
حَدَّثَنَا أبو علي مَخْلَد بن جعفر، حَدَّثَنَا أبو الحسن محمد بن محمد الكارِزِيّ، حَدَّثَنَا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا حَرْمَلة بن قيس النَّخَعي، حدثني أبو زُرْعة بن عمرو بن جَرِير، قال: ما وَفَدَ جَرِيرٌ قطُّ إِلَّا وفدتُ معه، وما دَخَلَ على معاوية إلَّا دخلت معه، وما دخلنا معه عليه إِلَّا ذَكَرَ قتلَ حُجْر بن عَديّ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5980 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5980 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے روایت ہے کہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ جب بھی کسی وفد کے ساتھ جاتے تو میں ان کے ہمراہ ہوتا، وہ جب بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاتے میں بھی ساتھ ہوتا، اور جب بھی ہم ان کے پاس گئے تو انہوں نے حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل کا ذکر ضرور کیا۔
حدثني علي بن عيسى الحِيريّ، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد القَبَّاني، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم البَغَوي، حَدَّثَنَا إسماعيل ابن عُليَّة، عن هشام بن حسّان، عن ابن سِيرِين: أنَّ زيادًا أطال الْخِطبة، فقال حُجْر بن عَدِيّ: الصلاةَ، فمضى في خطبته، فقال له: الصلاةَ، وضَرَبَ بيده إلى الحصى، وضَرَبَ الناسُ بأيديهم إلى الحصى، فنزل فصلَّى، ثم كَتَبَ فيه إلى معاوية، فكَتَبَ معاويةُ: أن سَرِّحْ به إليَّ، فسُرَّح إليه، فلمّا قدم عليه قال: السلامُ عليكَ يا أمير المؤمنين، قال: وأَميرُ المؤمنين أنا؟! إنِّي لا أُقيلُك ولا أستقيلُك، فأَمَرَ بقتله، فلما انطلقوا به طلب إلى الذين انطلقوا به أن يَأْذَنوا له فيصليَ ركعتين، فأذَنِوا له فصلَّى ركعتين، ثم قال: لا تُطلِقُوا عنِّي حديدًا، ولا تغسلوا لي دمًا، وادْفِنوني في ثيابي، فإني مُخاصِم. قال: فقُتِل (2). قال هشام: كان محمد بن سِيرِين إذا سُئل عن الشهيد، ذَكَرَ حديثَ حُجْر.
حافظ طلحہ بابر
ابن سیرین سے روایت ہے کہ زیاد نے ایک مرتبہ بہت طویل خطبہ دیا، تو سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا: ”نماز! (یعنی نماز کا وقت ہو رہا ہے)“، لیکن زیاد اپنے خطبے میں مگن رہا، انہوں نے دوبارہ کہا: ”نماز!“ اور اپنے ہاتھ سے کنکریاں زمین پر ماریں، لوگوں نے بھی ان کی پیروی میں کنکریاں زمین پر ماریں، تب وہ منبر سے نیچے اترا اور نماز پڑھائی، پھر اس نے اس واقعے کی رپورٹ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ انہیں میرے پاس بھیج دو، جب وہ وہاں پہنچے تو حجر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”السلام علیک یا امیر المومنین!“ انہوں نے کہا: ”کیا میں اب امیر المومنین ہوں؟! میں نہ تمہاری بیعت ختم کروں گا اور نہ ہی تمہیں معاف کروں گا“، پھر ان کے قتل کا حکم دیا، جب جلاد انہیں لے کر روانہ ہوئے تو حجر رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی مہلت دیں، انہوں نے اجازت دی تو انہوں نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر فرمایا: ”مجھ سے یہ بیڑیاں نہ اتارنا، میرا خون نہ دھونا اور مجھے انہی کپڑوں میں دفن کرنا کیونکہ میں (روزِ قیامت اللہ کے ہاں) مقدمہ پیش کرنے والا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر انہیں شہید کر دیا گیا۔ ہشام بیان کرتے ہیں کہ محمد بن سیرین سے جب بھی کسی شہید (کے کفن و دفن) کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ حجر رضی اللہ عنہ کی یہی حدیث ذکر کرتے۔
حَدَّثَنَا أبو علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسن بن قُتَيبة العَسْقلاني، حَدَّثَنَا محمد بن مِسْكِين اليَمَامي، حَدَّثَنَا عُبادة (1) بن عمر، حَدَّثَنَا عِكْرِمة بن عمّار، حَدَّثَنَا مَخْشِيُّ بن حُجْر بن عَدِيٍّ (2)، عن أبيه: أنَّ نبي الله ﷺ خَطَبَهم فقال: "أيُّ يومٍ هذا؟ " قالوا: يومٌ حرام، قال: "فأيُّ بلدٍ هذا؟ " قالوا: بلدٌ حرام، قال: "فأيُّ شهرٍ؟ " قالوا: شهر حرام، قال: "فإنَّ دماءَكم وأموالكم وأعراضكم حرام عليكم كحرمة يومِكم هذا، كحُرمةِ شهرِكم هذا، كحُرمةِ بَلَدِكم هذا، لِيُبلِّغ الشاهدُ الغائبَ، لا تَرجِعُوا بعدي كفّارًا يضربُ بعضُكم رِقابَ بعض" (3).
حافظ طلحہ بابر
مخشی بن حجر بن عدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے پوچھا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: یہ حرمت والا دن ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ عرض کیا: یہ حرمت والا شہر ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ عرض کیا: یہ حرمت والا مہینہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس دن، تمہارے اس مہینے اور تمہارے اس شہر کی حرمت ہے، لہٰذا جو یہاں موجود ہے وہ غائب تک (یہ پیغام) پہنچا دے، اور میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“