المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَصِيَّةُ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ عِنْدَ قَتْلِهِ باب: سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی وصیت جب انہیں قتل کیا گیا
حدثني علي بن عيسى الحِيريّ، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد القَبَّاني، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم البَغَوي، حَدَّثَنَا إسماعيل ابن عُليَّة، عن هشام بن حسّان، عن ابن سِيرِين: أنَّ زيادًا أطال الْخِطبة، فقال حُجْر بن عَدِيّ: الصلاةَ، فمضى في خطبته، فقال له: الصلاةَ، وضَرَبَ بيده إلى الحصى، وضَرَبَ الناسُ بأيديهم إلى الحصى، فنزل فصلَّى، ثم كَتَبَ فيه إلى معاوية، فكَتَبَ معاويةُ: أن سَرِّحْ به إليَّ، فسُرَّح إليه، فلمّا قدم عليه قال: السلامُ عليكَ يا أمير المؤمنين، قال: وأَميرُ المؤمنين أنا؟! إنِّي لا أُقيلُك ولا أستقيلُك، فأَمَرَ بقتله، فلما انطلقوا به طلب إلى الذين انطلقوا به أن يَأْذَنوا له فيصليَ ركعتين، فأذَنِوا له فصلَّى ركعتين، ثم قال: لا تُطلِقُوا عنِّي حديدًا، ولا تغسلوا لي دمًا، وادْفِنوني في ثيابي، فإني مُخاصِم. قال: فقُتِل (2). قال هشام: كان محمد بن سِيرِين إذا سُئل عن الشهيد، ذَكَرَ حديثَ حُجْر.
ابن سیرین سے روایت ہے کہ زیاد نے ایک مرتبہ بہت طویل خطبہ دیا، تو سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا: ”نماز! (یعنی نماز کا وقت ہو رہا ہے)“، لیکن زیاد اپنے خطبے میں مگن رہا، انہوں نے دوبارہ کہا: ”نماز!“ اور اپنے ہاتھ سے کنکریاں زمین پر ماریں، لوگوں نے بھی ان کی پیروی میں کنکریاں زمین پر ماریں، تب وہ منبر سے نیچے اترا اور نماز پڑھائی، پھر اس نے اس واقعے کی رپورٹ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ انہیں میرے پاس بھیج دو، جب وہ وہاں پہنچے تو حجر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”السلام علیک یا امیر المومنین!“ انہوں نے کہا: ”کیا میں اب امیر المومنین ہوں؟! میں نہ تمہاری بیعت ختم کروں گا اور نہ ہی تمہیں معاف کروں گا“، پھر ان کے قتل کا حکم دیا، جب جلاد انہیں لے کر روانہ ہوئے تو حجر رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی مہلت دیں، انہوں نے اجازت دی تو انہوں نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر فرمایا: ”مجھ سے یہ بیڑیاں نہ اتارنا، میرا خون نہ دھونا اور مجھے انہی کپڑوں میں دفن کرنا کیونکہ میں (روزِ قیامت اللہ کے ہاں) مقدمہ پیش کرنے والا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر انہیں شہید کر دیا گیا۔ ہشام بیان کرتے ہیں کہ محمد بن سیرین سے جب بھی کسی شہید (کے کفن و دفن) کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ حجر رضی اللہ عنہ کی یہی حدیث ذکر کرتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: محمد بن سیرین تک اس کی سند "صحیح" ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ روایت مختصراً پہلے نمبر (6092) پر گزر چکی ہے۔