فحدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَكّار بن قُتَيبة القاضي، حَدَّثَنَا أبو داود، حَدَّثَنَا شُعبة، عن أبي التَّيَّاح قال: سمعتُ رجلًا أسودَ كان مع ابن عبّاس بالبصرةِ حدَّث بأحاديثَ عن أبي موسى الأشعري عن النَّبِيِّ ﷺ، فكَتَبَ إليه ابن عبّاس يسأله عنها، فكتب إليه الأشعريُّ: إنك رجلٌ من أهل زمانك، وإنِّي لم أُحدَّثْ عن النَّبِيّ ﷺ منها بشيءٍ، إلَّا أَنِّي كنتُ مع النَّبِيّ ﷺ فأرادَ أن يَبُول، فقام إلى دَمِثِ (2) حائطٍ هناك، وقال: "إنَّ بني إسرائيل كان إذا أصابَ أحدَهم البولُ قَرَضَه بالمِقْراض، فإذا أرادَ أحدُكم أن يبولَ فلَيْرتَدْ لِبَولِه" (3).
هذا حديثٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5964 - صحيح
هذا حديثٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5964 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بصرہ میں ان کے پاس ایک سیاہ فام شخص نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ کی کچھ احادیث بیان کیں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خط لکھ کر اس بارے میں پوچھا، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں لکھا: ”بے شک تم اپنے زمانے کے (علمی اعتبار سے) بہترین شخص ہو، میں نے نبی کریم ﷺ سے ان باتوں کے متعلق کچھ بیان نہیں کیا سوائے اس کے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے پیشاب کرنے کا ارادہ فرمایا تو ایک دیوار کے نیچے نرم مٹی والی جگہ پر تشریف لے گئے اور فرمایا: ”بنی اسرائیل کا یہ حال تھا کہ جب ان میں سے کسی کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اسے قینچی سے کاٹ دیتے تھے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی پیشاب کرنے کا ارادہ کرے تو وہ پیشاب کے لیے (نرم) جگہ تلاش کر لیا کرے۔““
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حَدَّثَنَا بَدَلُ بن المحبَّر، حَدَّثَنَا شُعبة، عن عمرو بن مُرَّة، سمع أبا وائل يقول: شهدتُ أبا موسى الأشعريَّ وعمّارَ بن ياسر وأبا مسعودٍ البَدْريَّ، فسمعتُ أبا موسى وأبا مسعودٍ يقولان لعمّار: ما رأينا منك في الإسلام أمرًا أكرَهَ إلينا من تَسارُعِك في هذا الأمر، قال عمار: وأنا ما رأيتُ منكما منذ أسلمتما ما هو (1) أكرَهُ إليَّ من إبطائكما عنه. ثم خرجوا إلى المسجد جميعًا (2).
حافظ طلحہ بابر
ابووائل سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری، عمار بن یاسر اور ابومسعود بدری رضی اللہ عنہم کے پاس موجود تھا، میں نے ابوموسیٰ اور ابومسعود کو عمار سے یہ کہتے ہوئے سنا: ”ہم نے تمہارے اسلام لانے کے بعد تمہارے کسی معاملے کو اس (فتنے کے) معاملے میں تمہاری تیزی سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں پایا“، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”اور میں نے بھی تم دونوں کے اسلام لانے کے بعد سے تمہاری اس سستی اور تاخیر سے بڑھ کر کسی چیز کو ناپسند نہیں کیا“، پھر وہ سب مل کر مسجد کی طرف نکل گئے۔