کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اہلِ بصرہ کے لیے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی سوار بصرہ نہیں آیا
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعراني، حَدَّثَنَا أحمد بن حنبل ﵁، حَدَّثَنَا أبو داود، أخبرنا شُعبة، عن أبي التَّيَّاح قال: سمعتُ الحسنَ يقول: ما قَدِمَ البصرةَ راكبٌ خيرٌ لأهلها من أَبي موسى الأشعري (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5962 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5962 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بصرہ والوں کے لیے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی سوار (شخصیت) نہیں آئی۔
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفّان العامِريّ، حَدَّثَنَا حسن (4) بن عطية، حَدَّثَنَا يحيى بن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبيه، عن محمد بن علي، عن ابن عبّاس قال: قال أبو موسى الأشعري: إنَّ عليًا أولُ من أسلَمَ مع رسول الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والغَرَضُ في إخراجه براءةُ ساحةِ أبي موسى من نَقْصٍ عليٍّ، ثم روايةُ ابن عبّاس عنه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والغَرَضُ في إخراجه براءةُ ساحةِ أبي موسى من نَقْصٍ عليٍّ، ثم روايةُ ابن عبّاس عنه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک علی پہلے شخص ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اسلام لائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے یہاں ذکر کرنے کا مقصد سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں کسی بھی قسم کی تنقیص سے برأت ظاہر کرنا ہے اور یہ کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے روایت کی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے یہاں ذکر کرنے کا مقصد سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں کسی بھی قسم کی تنقیص سے برأت ظاہر کرنا ہے اور یہ کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے روایت کی ہے۔