کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خوش الحانی اور حسنِ قراءت کا بیان
حَدَّثَنَا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بن هشام الكوفي، حَدَّثَنَا خالد بن نافع الأشعري، عن سعيد بن أبي بُرْدة، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى قال: مرَّ النَّبِيُّ ﷺ بأبي موسى ذاتَ ليلةٍ ومعه عائشةُ، وأبو موسى يقرأ، فقاما فاستمعا لقراءتِه، ثم مَضَيا، فلما أصبَحَ أبو موسى وأتَى النَّبِيَّ ﷺ، قال النَّبِيُّ ﷺ: "مَرَرتُ بكَ يا أبا موسى البارحةَ وأنت تقرأُ، فاستَمَعْنا لِقراءتِكَ"، فقال أبو موسى: يا نبيَّ الله، لو علمتُ بمكانِكَ لحَبَّرتُ لك تحبيرًا (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5966 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5966 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات نبی کریم ﷺ کا ان کے پاس سے گزر ہوا جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھیں، ابوموسیٰ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے، آپ ﷺ کھڑے ہو گئے اور ان کی تلاوت سننے لگے، پھر آگے تشریف لے گئے، جب صبح ہوئی اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوموسیٰ! کل رات میرا تمہارے پاس سے گزر ہوا تھا جبکہ تم تلاوت کر رہے تھے، پس ہم تمہاری قرأت سننے کے لیے رک گئے تھے“، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! اگر مجھے آپ کی موجودگی کا علم ہوتا تو میں آپ کے لیے (قرآن کو) اور زیادہ سجا کر اور خوبصورت آواز میں تلاوت کرتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العبّاس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا الفضل بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا النَّضر بن شُمَيل، أخبرنا عوف بن أبي جَمِيلة، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبي بُرْدةَ قال: قال لي ابن عمر: أَتدري ما قال أبي لأبيك؟ قلتُ: لا، قال: قال أبي لأبيك: هل يَسرُّك أنَّ إسلامنا مع رسول الله ﷺ وهجرَتَنا معه وجهادَنا معه وعَمَلَنا معه بَرَدَ (1) لنا، وإنَّ كلَّ عملٍ عَمِلناه بعدَه نجونا منه كَفافًا رأسًا برأس؟ قال أبوك لأبي: لا والله، لقد جاهَدْنا بعدَ رسول الله ﷺ وصلَّينا وصُمنا وعَمِلْنا خيرًا كثيرًا، وإنا لنَرجو ذلك، قال: فقال أبي لأبيك: والذي نفسي بيدِه، لَوَدِدْتُ أَنه بَرَدَ لي، وإِنَّ كلَّ شيءٍ بعدَ ذلك نجونا منه رأسًا برأس، قال: قلتُ: إنَّ أباك خيرٌ من أبي (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5967 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5967 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوبردہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ میرے والد (عمر) نے تمہارے والد (ابوموسیٰ) سے کیا کہا تھا؟“ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: میرے والد نے تمہارے والد سے پوچھا تھا: ”کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہمارا اسلام لانا، ہجرت کرنا، جہاد کرنا اور تمام اعمال ہمارے لیے محفوظ رہ جاتے اور اس کے بعد ہم نے جو بھی عمل کیا ہوتا اس سے ہم اس طرح نجات پا جاتے کہ نہ ہمیں ثواب ملتا اور نہ گناہ (یعنی برابر چھوٹ جاتے)؟“ تمہارے والد نے میرے والد سے کہا: ”نہیں اللہ کی قسم! ہم نے رسول اللہ ﷺ کے بعد جہاد کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور بہت سی بھلائیاں کیں، اور ہمیں (اللہ سے) اس کے اجر کی امید ہے“، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس پر میرے والد نے تمہارے والد سے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میری تو یہ خواہش ہے کہ وہ ابتدائی اعمال میرے لیے محفوظ رہ جاتے اور اس کے بعد کی ہر چیز سے میں برابر سرابر چھوٹ جاتا (تاکہ کوئی حساب نہ رہے)“، ابوبردہ کہتے ہیں کہ میں نے (ابن عمر سے) کہا: ”بے شک آپ کے والد میرے والد سے بہتر تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔