المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
التَّحَرُّزُ عَنِ الْبَوْلِ باب: پیشاب سے خوب بچنے (احتیاط کرنے) کا بیان
حدیث نمبر: 6078
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حَدَّثَنَا بَدَلُ بن المحبَّر، حَدَّثَنَا شُعبة، عن عمرو بن مُرَّة، سمع أبا وائل يقول: شهدتُ أبا موسى الأشعريَّ وعمّارَ بن ياسر وأبا مسعودٍ البَدْريَّ، فسمعتُ أبا موسى وأبا مسعودٍ يقولان لعمّار: ما رأينا منك في الإسلام أمرًا أكرَهَ إلينا من تَسارُعِك في هذا الأمر، قال عمار: وأنا ما رأيتُ منكما منذ أسلمتما ما هو (1) أكرَهُ إليَّ من إبطائكما عنه. ثم خرجوا إلى المسجد جميعًا (2).
حافظ طلحہ بابر
ابووائل سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری، عمار بن یاسر اور ابومسعود بدری رضی اللہ عنہم کے پاس موجود تھا، میں نے ابوموسیٰ اور ابومسعود کو عمار سے یہ کہتے ہوئے سنا: ”ہم نے تمہارے اسلام لانے کے بعد تمہارے کسی معاملے کو اس (فتنے کے) معاملے میں تمہاری تیزی سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں پایا“، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”اور میں نے بھی تم دونوں کے اسلام لانے کے بعد سے تمہاری اس سستی اور تاخیر سے بڑھ کر کسی چیز کو ناپسند نہیں کیا“، پھر وہ سب مل کر مسجد کی طرف نکل گئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا في (ص)، ولم ترد لفظة "ما" في (ز) و (م) و (ب)، ووقع في مصادر التخريج: "أمرًا" بدل عبارة "ما هو".
اہم نکتہ: نسخہ (ص) میں اسی طرح ہے، جبکہ نسخہ (ز، م، ب) میں لفظ "ما" موجود نہیں ہے، اور تخریج کے دیگر مآخذ میں "ما ہو" کی جگہ لفظ "أمرًا" وارد ہوا ہے۔
(2) إسناده صحيح. أبو يحيى بن أبي مسرَّة: هو عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مسرة، وأبو وائل: هو شقيق. بن سلمة.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
اہم نکتہ: ابو یحییٰ بن ابی مسرہ سے مراد عبد اللہ بن احمد بن زکریا ہیں، اور ابو وائل سے مراد شقیق بن سلمہ ہیں۔
وانظر ما سلف برقم (4653).
نوٹ / توضیح: اس کی مزید تفصیل کے لیے سابقہ حدیث نمبر (4653) ملاحظہ فرمائیں۔
اہم نکتہ: نسخہ (ص) میں اسی طرح ہے، جبکہ نسخہ (ز، م، ب) میں لفظ "ما" موجود نہیں ہے، اور تخریج کے دیگر مآخذ میں "ما ہو" کی جگہ لفظ "أمرًا" وارد ہوا ہے۔
(2) إسناده صحيح. أبو يحيى بن أبي مسرَّة: هو عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مسرة، وأبو وائل: هو شقيق. بن سلمة.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
اہم نکتہ: ابو یحییٰ بن ابی مسرہ سے مراد عبد اللہ بن احمد بن زکریا ہیں، اور ابو وائل سے مراد شقیق بن سلمہ ہیں۔
وانظر ما سلف برقم (4653).
نوٹ / توضیح: اس کی مزید تفصیل کے لیے سابقہ حدیث نمبر (4653) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6078 سے ماخوذ ہے۔