کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو کثیر مال عطا کرنا
وقد حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا حامد بن أبي حامد المقرئ، حَدَّثَنَا إسحاق بن سليمان، عن ابن سِنان، عن حَبِيب بن أبي ثابت: أنَّ أبا أيوب الأنصاري قَدِمَ على ابن عبّاس البصرة، ففَرَغَ له بيتَه، وقال: لأصنَعَنَّ بك ما صنعتَ برسول الله ﷺ، وقال: كم عليكَ من الدَّين؟ قال: عشرون ألفًا، قال: فأعطاه أربعين ألفًا وعشرين مملوكًا، وقال: لك ما في البيت (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5936 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5936 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
حبیب بن ابی ثابت سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بصرہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے اپنا گھر ان کے لیے خالی کر دیا اور فرمایا: ”میں آپ کے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا تھا“، پھر پوچھا: ”آپ پر کتنا قرض ہے؟“ انہوں نے کہا: ”بیس ہزار“، تو انہوں نے انہیں چالیس ہزار اور بیس غلام عطا کیے اور فرمایا: ”گھر میں جو کچھ ہے وہ سب آپ کا ہے۔“
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حَدَّثَنَا ابن بُكَير، حدثني عبد الله بن لَهِيعة، عن حُيَيّ، عن أبي عبد الرحمن، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ أبا أيوب كان في مجلسٍ وهو يقول: ألا يستطيع أحدُكم أن يقرأَ ثُلُثَ القرآن كلَّ ليلة؟ قالوا: ما نستطيع ذلك، قال: فإِنَّ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ ثلث القرآن، قال: فجاء إليهم النَّبِيُّ ﷺ، فسمع أبا أيوب، فقال رسول الله ﷺ: "صَدَقَ أبو أيوب" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری ایک مجلس میں فرما رہے تھے: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات کی طاقت نہیں رکھتا کہ ہر رات تہائی قرآن پڑھے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے، انہوں نے فرمایا: ”بے شک ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ تہائی قرآن کے برابر ہے“، راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے اور سیدنا ابو ایوب کی بات سن لی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابو ایوب نے سچ کہا۔“