حدیث نمبر: 6049
وقد حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا حامد بن أبي حامد المقرئ، حَدَّثَنَا إسحاق بن سليمان، عن ابن سِنان، عن حَبِيب بن أبي ثابت: أنَّ أبا أيوب الأنصاري قَدِمَ على ابن عبّاس البصرة، ففَرَغَ له بيتَه، وقال: لأصنَعَنَّ بك ما صنعتَ برسول الله ﷺ، وقال: كم عليكَ من الدَّين؟ قال: عشرون ألفًا، قال: فأعطاه أربعين ألفًا وعشرين مملوكًا، وقال: لك ما في البيت (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5936 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

حبیب بن ابی ثابت سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بصرہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے اپنا گھر ان کے لیے خالی کر دیا اور فرمایا: ”میں آپ کے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا تھا“، پھر پوچھا: ”آپ پر کتنا قرض ہے؟“ انہوں نے کہا: ”بیس ہزار“، تو انہوں نے انہیں چالیس ہزار اور بیس غلام عطا کیے اور فرمایا: ”گھر میں جو کچھ ہے وہ سب آپ کا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6049
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6049] [ترقيم الشركة 5991] [ترقيم العلميه 5936]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) رجاله لا بأس بهم، إلّا أنه معضل بين حبيب بن أبي ثابت وأبي أيوب، لكن ذُكرت الواسطة بينهما، فيما سيأتي برقم (6054) بسند ضعيف. ابن سنان: هو سعيد بن سنان البُرجمي.
فنی نکتہ / علّت: اس کے راویوں میں بظاہر کوئی حرج نہیں، لیکن حبیب بن ابی ثابت اور ابو ایوب کے درمیان سند "معضل" (درمیان سے دو راوی غائب) ہے، تاہم آگے حدیث نمبر (6054) میں ایک ضعیف سند کے ساتھ ان کے درمیان واسطہ ذکر کیا گیا ہے۔ ابن سنان سے مراد سعید بن سنان البرجمی ہیں۔
وأخرجه أحمد في "فضائل الصحابة" (1881)، وابن عساكر 16/ 54 و 54 - 55 من طريق إسحاق بن سليمان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "فضائل الصحابہ" (1881) میں اور ابن عساکر نے (16/ 54، 55) میں اسحاق بن سلیمان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما قبله.
نوٹ / توضیح: اس سے ماقبل کی بحث ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6049 سے ماخوذ ہے۔