حدیث نمبر: 6048
أخبرني أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرازي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن موسى، حَدَّثَنَا محمد بن أنس، حَدَّثَنَا الأعمش، عن الحَكَم، عن مِقْسَم: أنَّ أبا أيوب أتى معاويةَ، فذكر له حاجةً، قال: ألستَ صاحبَ عثمان؟ قال: أما إنَّ رسول الله ﷺ قد خبَّرَنا أنه سَيُصيبُنا بعدَه أَثَرةٌ، قال: وما أَمَرَكُم؟ قال: أمَرَنا أن نَصبِرَ حتَّى نَرِدَ عليه الحوض، قال: فاصبِروا، قال: فغضب أبو أيوب وحَلَفَ أن لا يُكلِّمَه أبدًا. ثم إنَّ أبا أيوب أتى عبدَ الله بنَ عبّاس فَذَكَرَ له، فخَرَجَ له عن بيتِه كما خَرَجَ أبو أيوب الرسول الله ﷺ عن بيته، قال: أَيشٍ تريد؟ قال: أربعةَ غِلْمةٍ يكونون في مَحلِّي، قال: لك عندي عشرون غلامًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5935 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

مقسم سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اپنی ایک ضرورت بیان کی، انہوں نے کہا: ”کیا تم عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھی نہیں ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”آگاہ رہو کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ آپ ﷺ کے بعد ہمیں اقربا پروری اور ترجیح (حق تلفی) کا سامنا کرنا پڑے گا“، انہوں نے پوچھا: ”تو آپ ﷺ نے تمہیں کیا حکم دیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم صبر کریں یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر آپ ﷺ سے جا ملیں“، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر صبر ہی کرو“، اس پر سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور قسم کھا لی کہ وہ ان سے کبھی بات نہیں کریں گے، پھر سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور انہیں سارا ماجرا سنایا، تو ابن عباس ان کے لیے اپنے گھر سے اس طرح نکلے جیسے سیدنا ابو ایوب رسول اللہ ﷺ کے لیے اپنے گھر سے نکلے تھے، انہوں نے پوچھا: ”آپ کیا چاہتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”چار غلام جو میری جگہ کام کریں“، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”میرے پاس تمہارے لیے بیس غلام موجود ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6048
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6048] [ترقيم الشركة 5990] [ترقيم العلميه 5935]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله لا بأس بهم إلّا أنَّ مقسمًا - وهو ابن بُجرة ويقال له: مولى ابن عباس للزومه إياه - لم يسمع أبا أيوب ولا معاوية، فروايته للقصة مرسلة. وسيأتي الحديث من وجه آخر عن ابن عبّاس برقم (6054).
فنی نکتہ / علّت: اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں سوائے اس کے کہ مِقسَم (ابن بُجرہ، جنہیں ابن عباس کا قرب حاصل ہونے کی وجہ سے ان کا مولیٰ کہا جاتا ہے) کا سماع حضرت ابو ایوب اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما سے ثابت نہیں، لہذا ان کی یہ روایت "مرسل" ہے۔ یہی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دوسرے طریق سے آگے نمبر (6054) پر آئے گی۔
أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس الحافظ، وإبراهيم بن موسى: هو ابن يزيد الرازي، والأعمش: هو سليمان بن مهران، والحكم هو ابن عتيبة.
اہم نکتہ: راویوں کی پہچان: ابو حاتم الرازی سے مراد حافظ محمد بن ادریس ہیں، ابراہیم بن موسیٰ سے مراد ابن یزید الرازی ہیں، الاعمش سے مراد سلیمان بن مہران ہیں، اور الحکم سے مراد ابن عتیبہ ہیں۔
وانظر ما بعده، وما سيأتي برقم (6063).
نوٹ / توضیح: اس کے بعد والی روایت اور آگے حدیث نمبر (6063) ملاحظہ فرمائیں۔
وفي باب قوله: إنه سيصيبنا بعده أثرة، وأمرنا أن نصبر حتَّى نرد عليه الحوض، عن أنس بن مالك عند أحمد 19/ (12085)، والبخاري (2376)، ومسلم (1059)، مرفوعًا بلفظ: "سترون بعدي أَثرة، فاصبروا حتَّى تلقَوني"؛ يعني الأنصار.
حوالہ / مصدر: اس باب میں کہ "نبی ﷺ کے بعد ہمیں خود غرضی (حق تلفی) کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہمیں صبر کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ ہم حوضِ کوثر پر آپ ﷺ سے جا ملیں"، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت امام احمد (19/ 12085)، بخاری (2376) اور مسلم (1059) میں موجود ہے، جس کے مرفوع الفاظ ہیں: "تم میرے بعد حق تلفی دیکھو گے، پس صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو"؛ اس سے مراد انصار ہیں۔
وعن أُسيد بن حضير عند أحمد 31/ (19092)، والبخاري (3792)، ومسلم (1845).
حوالہ / مصدر: یہی مفہوم حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی ہے جو امام احمد (31/ 19092)، بخاری (3792) اور مسلم (1845) میں مذکور ہے۔
وعن عبد الله بن زيد المازني عند أحمد 26 / (16470)، والبخاري (4330)، ومسلم (1061).
حوالہ / مصدر: حضرت عبد اللہ بن زید المازنی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، مراجع: احمد (26/ 16470)، بخاری (4330) اور مسلم (1061)۔
وعن البراء بن عازب عند أحمد 30/ (18582).
حوالہ / مصدر: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی روایت امام احمد (30/ 18582) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6048 سے ماخوذ ہے۔