کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمانا
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا عبّاس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا أبو داود، حَدَّثَنَا شُعبة وحماد بنُ سَلَمة، عن سِمَاك بن حرب، قال: سمعتُ جابر بنَ سَمُرة يقول: نزل رسولَ الله ﷺ على أبي أيوب، وكان إذا أكل طعامًا بعث إليه بفَضْله، فينظرُ إلى موضع يد رسول الله ﷺ [فيضَعُ يدَه فيه، فبعث إليه يومًا بطعامٍ فلم يَرَ فيه أثَرَ أصابع رسول الله ﷺ] (2)، فأتى النَّبِيّ ﷺ فقال: يا رسول الله، لم أرَ أثر أصابعك، فقال: "إنه كان فيه ثُومٌ". قال شُعبة في حديثه: أحرامٌ هو؟ فقال رسول الله ﷺ: "لا"، وقال حماد في حديثه: يا رسولَ الله، بعثتَ إليَّ بما لم تأكل، فقال: "إنَّك لستَ مِثْلي، إنه يأتيني المَلَكُ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5938 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے ہاں فروکش ہوئے، جب آپ ﷺ کھانا کھا لیتے تو اپنا بچا ہوا کھانا ان کی طرف بھیج دیتے، وہ رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک کے نشانات تلاش کرتے اور وہیں اپنا ہاتھ رکھتے جہاں آپ ﷺ کی انگلیاں لگی ہوتیں، ایک دن انہوں نے آپ ﷺ کی خدمت میں کھانا بھیجا لیکن اس میں رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کے نشانات نہ پائے، وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کی انگلیوں کے نشانات نہیں دیکھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں لہسن تھا“، شعبہ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے پوچھا: کیا یہ حرام ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“، جبکہ حماد کی روایت میں ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے وہ کھانا واپس بھیج دیا جو آپ نے تناول نہیں فرمایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تم میری مثل نہیں ہو، میرے پاس فرشتہ آتا ہے (جسے لہسن کی بو ناگوار گزرتی ہے)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6051
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سماك بن حرب، وقد توبع، فقد رواه غير واحد عن أبي أيوب الأنصاري، وجابر بن سمرة إنما سمعه من أبي أيوب كما سيأتي في التخريج.» [ترقيم الرساله 6051] [ترقيم الشركة 5993] [ترقيم العلميه 5938]
حَدَّثَنَا أبو الوليد الإمام ﵀، حَدَّثَنَا محمد بن نُعيم، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي، حَدَّثَنَا وهب بن جَرير، حدثني أبي، قال: سمعتُ محمد بن إسحاق يقول: حدثني يزيد بن أبي حَبِيب، عن مَرْثَد بن عبد الله اليَزَني، عن أبي أُمامة الباهلي، عن أبي أيوبَ قال: لما نزل عَلَيَّ رسولُ الله ﷺ قلت: بأبي أنتَ وأُمي، إنِّي أكره أن أكون فوقَكَ وتكون أسفَلَ منِّي، فقال رسول الله ﷺ: "إِنِّي أَرفَقُ أن أكون في السُّفْلِ لِمَا يَعْشَانا من الناس"، قال: فلقد رأيتُ جرَّةً لنا انكسرت، فأُهريق ماؤها، فقمتُ أنا وأمُّ أيوب بقَطِيفةٍ لنا ما لنا لِحافٌ غيرُها نُنشِّفُ بها الماءَ فَرَقًا أن يَصِلَ إلى رسول الله ﷺ شيءٌ يؤذيه (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5939 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں اسے سخت ناپسند کرتا ہوں کہ میں اوپر والی منزل پر رہوں اور آپ میرے نیچے منزل پر ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے لیے نیچے رہنا ہی زیادہ سہولت کا باعث ہے کیونکہ لوگ مجھ سے ملنے آتے رہتے ہیں“، وہ کہتے ہیں کہ ایک بار ہمارا پانی کا ایک گھڑا ٹوٹ گیا اور اس کا سارا پانی بہہ گیا، پس میں اور ام ایوب اپنی اس چادر کے ساتھ پانی خشک کرنے لگے جس کے سوا ہمارا کوئی اوڑھنا نہ تھا، ہم اس ڈر سے ایسا کر رہے تھے کہ کہیں پانی کا کوئی قطرہ نیچے رسول اللہ ﷺ تک پہنچ کر انہیں اذیت نہ پہنچا دے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6052
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد اضطرب فيه محمد بن إسحاق، فقد رواه مرةً - كما هنا - عن يزيد بن أبي حبيب، عن أبي الخير مرثد، عن أبي أمامة الباهلي، عن أبي أيوب، ورواه مرةً عن يزيد، عن أبي الخير، عن أبي رُهم السماعي، عن أبي أيوب، فذكر أبا رهم مكان ...» [ترقيم الرساله 6052] [ترقيم الشركة 5994] [ترقيم العلميه 5939]