کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا منذر بن عبد الله ابو محمد قرشی کے فضائل کا بیان
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله، قال: المُنكَدِر بن عبد الله بن الهُدَير بن مُحْرِز بن عبد العُزَّى ابن عامر بن الحارث بن حارثةَ بن سعد بن تَيْم بن مُرّة، أدركَ النَّبِيّ ﷺ وسمع منه (1).
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ سے روایت ہے کہ منکدر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا اور آپ ﷺ سے احادیث سنیں۔
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري، حَدَّثَنَا الحَسن بن علي، حَدَّثَنَا الزُّبير بن بكّار، قال: كان المُنكدر بن عبد الله جاء إلى عائشة أم المؤمنين ﵂، فشَكَا إليها الحاجةَ، فقالت: أولُ شيءٍ يأتيني أبعثُ به إليك، فجاءها عشرةُ آلاف درهمٍ، فبَعثَتْ بها إليه، فأخذَ منها جارِيةً، فوَلَدت له بَنِيهِ: محمدًا وأبا بكر وعمرَ، وذُكِروا كلُّهم بالصَّلاح، وحُمِل عنهم الحديثُ (2).
حافظ طلحہ بابر
زبیر بن بکّار سے روایت ہے کہ منکدر بن عبداللہ نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی حاجت اور تنگدستی کی شکایت کی، انہوں نے فرمایا: ”میرے پاس جو بھی پہلی چیز (مال) آئے گی میں تمہیں بھیج دوں گی“، چنانچہ جب ان کے پاس دس ہزار درہم آئے تو انہوں نے وہ ان کی طرف بھجوا دیے، انہوں نے ان درہموں سے ایک لونڈی خریدی جس کے بطن سے ان کے بیٹے محمد، ابوبکر اور عمر پیدا ہوئے، یہ سب کے سب زہد و تقویٰ میں مشہور ہوئے اور ان سے حدیثیں روایت کی گئیں۔