حدیث نمبر: 6037
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبَري، حَدَّثَنَا الحَسن بن علي، حَدَّثَنَا الزُّبير بن بكّار، قال: كان المُنكدر بن عبد الله جاء إلى عائشة أم المؤمنين ﵂، فشَكَا إليها الحاجةَ، فقالت: أولُ شيءٍ يأتيني أبعثُ به إليك، فجاءها عشرةُ آلاف درهمٍ، فبَعثَتْ بها إليه، فأخذَ منها جارِيةً، فوَلَدت له بَنِيهِ: محمدًا وأبا بكر وعمرَ، وذُكِروا كلُّهم بالصَّلاح، وحُمِل عنهم الحديثُ (2).
حافظ طلحہ بابر

زبیر بن بکّار سے روایت ہے کہ منکدر بن عبداللہ نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی حاجت اور تنگدستی کی شکایت کی، انہوں نے فرمایا: ”میرے پاس جو بھی پہلی چیز (مال) آئے گی میں تمہیں بھیج دوں گی“، چنانچہ جب ان کے پاس دس ہزار درہم آئے تو انہوں نے وہ ان کی طرف بھجوا دیے، انہوں نے ان درہموں سے ایک لونڈی خریدی جس کے بطن سے ان کے بیٹے محمد، ابوبکر اور عمر پیدا ہوئے، یہ سب کے سب زہد و تقویٰ میں مشہور ہوئے اور ان سے حدیثیں روایت کی گئیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6037
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6037] [ترقيم الشركة 5979]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) أخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 56/ 40 من طريق أحمد بن سليمان، عن الزُّبير بن بكّار.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (56/ 40) میں احمد بن سلیمان از زبیر بن بکار کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6037 سے ماخوذ ہے۔