کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد الله بن هشام بن زہرة قرشی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
أخبرني أحمد بن يعقوب حَدَّثَنَا موسى بن زكريا، حَدَّثَنَا خَليفة بن خَيّاط، قال: عبد الله بن هشام بن زُهْرة بن عُثمان بن عمرو بن كعب بن سعْد بن تَيْم بن مُرّة، أنه امرأةٌ من بني أسَد بن خُزَيمة يقال: اسمُها أَمَةُ الله بنت عبد شمس بن عبد يالِيلَ بن ناشِب بن غِيَرةَ (2) بن سعْد بن لَيث بن بَكْر بن عبد مَنَاةَ، ذهبتْ به أمُّه إلى النَّبِيِّ ﷺ وهو صغيرٌ، فمَسَح رأسَه، ولم يُبايِعْه (3).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن ہشام بن زہرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ (جن کا تعلق بنو اسد بن خزیمہ سے تھا اور ان کا نام امۃ اللہ بنت عبد شمس تھا) انہیں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں لے کر آئیں جبکہ وہ ابھی چھوٹے بچے تھے، آپ ﷺ نے ان کے سر پر اپنا دستِ مبارک پھیرا لیکن (کم سنی کی وجہ سے) ان سے بیعت نہیں لی۔
حَدَّثَنَا الحُسين بن الحَسن بن أيوب، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرّة، حَدَّثَنَا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حَدَّثَنَا سعيد بن أبي أيوبَ، عن أبي عَقِيل زُهْرة بن مَعبَد، عن عبد الله بن هشام - وكان قد أدركَ النَّبِيّ ﷺ: أنَّ أمَّه أتْت به النَّبِيّ ﷺ، فمسَح رأسه ودَعَا له، فكان يُضحِّي بالشاةِ الواحدة عن جَميع أهلِه (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ (جنہوں نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا تھا) سے روایت ہے کہ ان کی والدہ انہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لائیں، تو آپ ﷺ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے (برکت کی) دعا فرمائی، وہ اپنی تمام اہل و عیال کی طرف سے (نبی کریم ﷺ کی سنت کی پیروی میں) ایک ہی بکری کی قربانی کیا کرتے تھے۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد (2) البغدادي، حَدَّثَنَا أبو الزِّنْباع رَوْح بن الفَرَج، حَدَّثَنَا يحيى بن بُكَير، حَدَّثَنَا رِشْدِين بن سعْد وابنُ لَهِيعة، عن زُهْرة بن مَعبَد، عن جدِّه عبد الله بن هشام، قال: كنا مع رسول الله ﷺ، وهو آخِذٌ بِيَدِ عُمر بن الخطّاب، فقال عمرُ: واللهِ يا رسولَ الله، إنَّكَ لأَحَبُّ إليَّ من كل شيءٍ إِلَّا نفْسي، فقال النَّبِيُّ ﷺ: "لا والذي نَفْسي بيده، حتَّى أكونَ أحبَّ إليك من نَفْسِك" قال عمر: فأنتَ الآن أحبُّ إليَّ من نَفْسي، فقال رسول الله ﷺ: "الآنَ يا عمرُ" (3). ذكرُ مناقب المُنكَدِر بن عبد الله أبي مُحمدٍ القُرَشي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5922 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5922 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور آپ ﷺ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنی جان کے سوا دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں“، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! (ایمان تب مکمل ہوگا) جب میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہو جاؤں“، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! اب (تمہارا ایمان درجۂ کمال کو پہنچا)۔“