کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو شخص بیت اللہ کا ایک ہفتہ (سات چکر) طواف کرے، اس کو ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا حُرَيث بن السائب، حَدَّثَنَا محمد بن المُنكَدر، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن طاف حولَ البيتِ أُسبُوعًا لا يَلْغُو فيه، كان كعَدْلِ رَقَبَةٍ يُعتِقُها" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5925 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5925 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
محمد بن منکدر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بیت اللہ کے گرد سات چکر طواف کیا اور اس دوران کوئی فضول یا نازیبا بات نہ کی، تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔“
حَدَّثَنَا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان من أصلِ كتابه، حَدَّثَنَا محمد بن المغيرة السُّكّري (1)، حَدَّثَنَا القاسم بن الحَكَم العُرَني، حَدَّثَنَا عبد الله بن عمرو بن مُرّة، حدثني محمد بن سُوقَة، عن محمد بن المُنكدِر، عن أبيه، عن النَّبِيّ ﷺ: أنه خَرَج ذاتَ ليلةٍ، وقد أخَّر صلاةَ العِشاء حتَّى ذَهَبَ من الليل هُنَيهةٌ أو ساعةٌ، والناس يَنتظِرون في المسجد، فقال: "ما تَنتَظِرون؟ " فقالوا: ننتَظِرُ الصلاةَ! فقال: "أمَا (2) إنّكُم لن تَزالُوا في صلاةٍ ما انتظَرْتُموها" ثم قال: "أمَا إنها صلاةٌ لم يُصَلِّها أحدٌ ممّن كان قبلَكم من الأُمم"، ثم رفع رأسَه إلى السماء، فقال: "النجومُ أمانُ السماءِ، فإن طُمِسَت النُّجومُ أتى السماءَ ما يُوعَدُون (3)، وأنا أمانٌ لأصحابي (4)، فإذا قُبِضتُ أتى أصحابي ما يُوعَدُون، وأهل بيتي أمانٌ لأُمّتي، فإذا ذَهَبَ أهْلُ بيتي أتى أُمّتي ما تُوعَدُ (5) " (6) ذكرُ مناقب أبي أيوب الأنصاري ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
سیدنا منکدر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک رات باہر تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ نے عشا کی نماز میں اتنی تاخیر کر دی تھی کہ رات کا کچھ حصہ گزر چکا تھا اور لوگ مسجد میں انتظار کر رہے تھے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”آگاہ رہو کہ جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہو گے تم نماز ہی کی حالت میں شمار ہو گے“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یاد رکھو! یہ وہ نماز ہے جو تم سے پہلے کسی امت نے ادا نہیں کی“، پھر آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: ”ستارے آسمان کے لیے باعثِ امن ہیں، جب ستارے مٹا دیے جائیں گے تو آسمان پر وہ ہولناکی آ جائے گی جس کا اس سے وعدہ کیا گیا ہے، اور میں اپنے صحابہ کے لیے باعثِ امن ہوں، جب میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ فتنے آ جائیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے، اور میرے اہل بیت میری امت کے لیے باعثِ امن ہیں، جب میرے اہل بیت چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ آزمائشیں آ جائیں گی جن کا اس سے وعدہ کیا گیا ہے۔“