قال ابن عمر: وحدثنا أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن المِسْوَر بن رِفاعة، عن عبد الله بن مَكْنَف. وحدثنا أفلحُ بن سعيد، عن سعيد (1) بن عبد الرحمن بن رُقَيش، عن أبي البَدّاح بن عاصم بن عَدِيّ: أَنَّ رسول الله ﷺ لما أراد الخُروجَ إلى بدر خَلّف عاصمَ بنَ عَدِيّ على قُباءٍ وأهل العاليَة، لشيءٍ بلغَه عنهم، فضَرَب له بسَهْمِه وأجرِه، فكان كمن شهدها (2).
حافظ طلحہ بابر
ابو البداح بن عاصم بن عدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب بدر کی طرف روانگی کا ارادہ فرمایا تو سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کو کسی ایسی بات کی وجہ سے جو آپ ﷺ تک پہنچی تھی، مقامِ قباء اور اہل عالیہ کی نگرانی کے لیے پیچھے چھوڑ دیا، پھر آپ ﷺ نے ان کے لیے (مالِ غنیمت میں سے) حصہ اور (آخرت کا) اجر مقرر فرمایا، پس وہ (فضیلت میں) ایسے ہی تھے جیسے غزوے میں خود موجود ہوں۔
قال ابن عُمر: وشهد عاصم بن عدي أُحدًا والخَندق والمَشاهِدَ كلَّها مع رسولِ الله ﷺ، وكان عاصمٌ إلى القِصَر ما هو، ومات سنة خمس وأربعين في خلافة معاوية، وهو ابن خمسَ عشرةَ ومئة.
حافظ طلحہ بابر
ابن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے غزوہ احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی، آپ کا قد مائل بہ پستی (چھوٹا) تھا، اور آپ کی وفات سن 45 ہجری میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں ہوئی جبکہ آپ کی عمر ایک سو پندرہ برس تھی۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا أحمد بن جَنَاب، حدثنا عيسى بن يونس، عن سعيد بن عثمان البَلَوي، عن عاصم بن أبي البَدّاح بن عاصم بن عَدي، عن أبيه، عن جده عاصم بن عَدِيّ، قال: اشتَريتُ أنا وأخي مئة سَهمٍ من سِهام خَيبَر، فبلَغَ ذلك النبيَّ ﷺ، فقال: "يا عاصمُ، ما ذئبانِ عادِيَانِ أصابا فَرِيسةَ غَنَمٍ أضاعَها ربُّها، بأفسَدَ فيها من حُبِّ المالِ والشَّرَفِ لِدِينِه" (3). الحديثُ المشهورُ (1) لعاصمٍ عن رسول الله ﷺ هو الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5771 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5771 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اور میرے بھائی نے خیبر کے حصوں میں سے سو حصے خریدے، جب یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عاصم! دو بھوکے بھیڑیے جو بکریوں کے اس ریوڑ پر حملہ آور ہوں جس کا مالک غائب ہو، وہ بھی اس ریوڑ کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا مال کی محبت اور جاہ و مرتبہ کی طلب انسان کے دین کو نقصان پہنچاتی ہے۔“
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أنَّ مالكًا حدَّثَه عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أبيه، أنَّ أبا البَدّاح بن عاصم بن عَدِيّ أخبره عن أبيه: أنَّ رسولَ الله ﷺ رَخّص لرِعاءِ الإبِل في البَيتُوتة، يَرمُون يومَ النَّحْرِ، ثم يَرمُون من الغَدِ أو بعد الغَدِ، ثم يَرمُون يومَ النَّفْر (2). صحيحُ الإسناد، جَوَّده مالكُ بن أنس، وزَلِقَ غيرُه فيه، ولم يُخرِجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5772 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5772 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوالبداح بن عاصم بن عدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ چرانے والوں کو (ایامِ تشریق کی راتوں میں منیٰ سے باہر) رہنے کی رخصت عطا فرمائی کہ وہ یوم النحر (10 ذوالحجہ) کو رمی کریں، پھر اگلے دن یا اس سے اگلے دن (اکٹھی) رمی کریں اور پھر کوچ کرنے والے دن (یوم النفر) رمی کریں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، امام مالک بن انس نے اسے بہترین طریقے سے روایت کیا جبکہ دیگر سے اس میں تسامح ہوا، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، امام مالک بن انس نے اسے بہترین طریقے سے روایت کیا جبکہ دیگر سے اس میں تسامح ہوا، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
فسمعتُ أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس بن محمد الدُّوْريَّ يقول: سمعتُ يحيى بن مَعِين يقول في حديث أبي البَدّاح بن عاصم بن عَدي: يرويه مالك بن أنس، عن عبد الله بن أبي بكر، عن أبيه، عن أبي البَدّاح بن عاصم بن عَدي عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ رَخّص للرِّعاء أن يَرمُوا الحِمَارَ ليلًا. قال يحيى: حدَّثَناه سفيان بن عُيينة، عن محمد بن أبي بكر، عن أبيه، عن أبي البَدّاح بن عَدي، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ رخّص للرِّعاء أن يَرمُوا يومًا ويدعوا يومًا (1). قال يحيى: وهذا خطأٌ، إنما هو كما قال مالك. قال يحيى: وكان سفيانُ إذا حدثَنا بهذا الحديث قال: ذهَب علَيَّ في هذا الحديث شيءٌ (2). قال الحاكم: وقد أسندَ أبو البَدّاح بن عاصم بن عدي، عن أبيه حديثًا آخَر:
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن معین سے مروی ہے کہ ابو البداح بن عاصم بن عدی کی حدیث جسے امام مالک بن انس روایت کرتے ہیں، اس میں ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چرواہوں کو رات کے وقت رمی کرنے کی رخصت دی تھی۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ نے اس میں ”ایک دن رمی کرنے اور ایک دن چھوڑنے“ کے الفاظ کہے ہیں، مگر یحییٰ کے نزدیک یہ غلطی ہے اور امام مالک کی روایت ہی درست ہے، خود سفیان بھی اس حدیث میں کسی کمی یا ابہام کا اعتراف کرتے تھے۔
ابو البداح بن عاصم بن عدی نے اپنے والد سے ایک اور حدیث بھی روایت کی ہے۔
ابو البداح بن عاصم بن عدی نے اپنے والد سے ایک اور حدیث بھی روایت کی ہے۔
حدَّثَناه أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن عائذ الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن عبد الله بن يزيد، عن أبي البَدّاح بن عاصم بن عدَيّ، عن أبيه، قال: قَدِمَ رسولُ الله ﷺ المدينةَ يومَ الاثنين، لاثنتي عشرةَ ليلةً خَلَتْ من شهر ربيع الأول، فأقام بالمدينة عشرَ سِنين (3). ذكرُ مناقب زيدِ بن ثابتٍ كاتبِ النبيِّ ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5774 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5774 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو بروز پیر مدینہ منورہ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے وہاں دس سال قیام فرمایا۔