المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مَذَمَّةُ حُبِّ الْمَالِ باب: مال کی محبت کی مذمت
حدیث نمبر: 5880
قال ابن عمر: وحدثنا أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن المِسْوَر بن رِفاعة، عن عبد الله بن مَكْنَف. وحدثنا أفلحُ بن سعيد، عن سعيد (1) بن عبد الرحمن بن رُقَيش، عن أبي البَدّاح بن عاصم بن عَدِيّ: أَنَّ رسول الله ﷺ لما أراد الخُروجَ إلى بدر خَلّف عاصمَ بنَ عَدِيّ على قُباءٍ وأهل العاليَة، لشيءٍ بلغَه عنهم، فضَرَب له بسَهْمِه وأجرِه، فكان كمن شهدها (2).
حافظ طلحہ بابر
ابو البداح بن عاصم بن عدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب بدر کی طرف روانگی کا ارادہ فرمایا تو سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کو کسی ایسی بات کی وجہ سے جو آپ ﷺ تک پہنچی تھی، مقامِ قباء اور اہل عالیہ کی نگرانی کے لیے پیچھے چھوڑ دیا، پھر آپ ﷺ نے ان کے لیے (مالِ غنیمت میں سے) حصہ اور (آخرت کا) اجر مقرر فرمایا، پس وہ (فضیلت میں) ایسے ہی تھے جیسے غزوے میں خود موجود ہوں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: عبد الله، وهو خطأ، والتصويب من "مغازي الواقدي" 1/ 160، و "طبقات ابن سعد" 3/ 432.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "عبداللہ" لکھا ہے جو کہ غلطی ہے۔ درست نام "مغازي الواقدي" (1/ 160) اور "طبقات ابن سعد" (3/ 432) سے لیا گیا ہے۔
(2) الإسناد الأول ضعيف جدًّا من أجل أبي بكر بن أبي سَبْرة، فقد اتهمه أحمد بوضع الحديث، ثم هو مرسل، وثاني الإسنادين رجالُه لا بأس بهم لكنه مرسل، غير أنه وإن كان كذلك هو من رواية أبي البدَّاح بن عاصم بن عدي يحكي فيها قصة لأبيه، وهو أعلمُ به، وابنُ عمر - وهو الواقدي - متكلَّم فيه.
درجۂ حدیث: پہلی سند ابوبکر بن ابی سبرہ کی وجہ سے سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے، کیونکہ امام احمد نے ان پر حدیث گھڑنے کا الزام لگایا ہے، پھر یہ "مرسل" بھی ہے۔ دوسری سند کے رجال میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ بھی "مرسل" ہے۔ البتہ یہ ابو البداح بن عاصم بن عدی کی روایت ہے جو اپنے والد کا قصہ بیان کر رہے ہیں اور وہ ان کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں۔ اور ابن عمر (واقدی) پر کلام (جرح) کی گئی ہے۔
وهو في "مغازي الواقدي" 1/ 160 بإسناده الثاني.
حوالہ / مصدر: یہ "مغازي الواقدي" (1/ 160) میں ان کی دوسری سند کے ساتھ موجود ہے۔
وهو في "طبقات ابن سعد" 3/ 432 عن محمد بن عمر الواقدي بإسناديه.
حوالہ / مصدر: یہ "طبقات ابن سعد" (3/ 432) میں محمد بن عمر الواقدی سے ان کی دونوں اسانید کے ساتھ موجود ہے۔
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "عبداللہ" لکھا ہے جو کہ غلطی ہے۔ درست نام "مغازي الواقدي" (1/ 160) اور "طبقات ابن سعد" (3/ 432) سے لیا گیا ہے۔
(2) الإسناد الأول ضعيف جدًّا من أجل أبي بكر بن أبي سَبْرة، فقد اتهمه أحمد بوضع الحديث، ثم هو مرسل، وثاني الإسنادين رجالُه لا بأس بهم لكنه مرسل، غير أنه وإن كان كذلك هو من رواية أبي البدَّاح بن عاصم بن عدي يحكي فيها قصة لأبيه، وهو أعلمُ به، وابنُ عمر - وهو الواقدي - متكلَّم فيه.
درجۂ حدیث: پہلی سند ابوبکر بن ابی سبرہ کی وجہ سے سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے، کیونکہ امام احمد نے ان پر حدیث گھڑنے کا الزام لگایا ہے، پھر یہ "مرسل" بھی ہے۔ دوسری سند کے رجال میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ بھی "مرسل" ہے۔ البتہ یہ ابو البداح بن عاصم بن عدی کی روایت ہے جو اپنے والد کا قصہ بیان کر رہے ہیں اور وہ ان کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں۔ اور ابن عمر (واقدی) پر کلام (جرح) کی گئی ہے۔
وهو في "مغازي الواقدي" 1/ 160 بإسناده الثاني.
حوالہ / مصدر: یہ "مغازي الواقدي" (1/ 160) میں ان کی دوسری سند کے ساتھ موجود ہے۔
وهو في "طبقات ابن سعد" 3/ 432 عن محمد بن عمر الواقدي بإسناديه.
حوالہ / مصدر: یہ "طبقات ابن سعد" (3/ 432) میں محمد بن عمر الواقدی سے ان کی دونوں اسانید کے ساتھ موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5880 سے ماخوذ ہے۔