المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مَذَمَّةُ حُبِّ الْمَالِ باب: مال کی محبت کی مذمت
حدیث نمبر: 5882
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أنَّ مالكًا حدَّثَه عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أبيه، أنَّ أبا البَدّاح بن عاصم بن عَدِيّ أخبره عن أبيه: أنَّ رسولَ الله ﷺ رَخّص لرِعاءِ الإبِل في البَيتُوتة، يَرمُون يومَ النَّحْرِ، ثم يَرمُون من الغَدِ أو بعد الغَدِ، ثم يَرمُون يومَ النَّفْر (2). صحيحُ الإسناد، جَوَّده مالكُ بن أنس، وزَلِقَ غيرُه فيه، ولم يُخرِجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5772 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوالبداح بن عاصم بن عدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ چرانے والوں کو (ایامِ تشریق کی راتوں میں منیٰ سے باہر) رہنے کی رخصت عطا فرمائی کہ وہ یوم النحر (10 ذوالحجہ) کو رمی کریں، پھر اگلے دن یا اس سے اگلے دن (اکٹھی) رمی کریں اور پھر کوچ کرنے والے دن (یوم النفر) رمی کریں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، امام مالک بن انس نے اسے بہترین طریقے سے روایت کیا جبکہ دیگر سے اس میں تسامح ہوا، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. ابن وهب: هو عبد الله.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابن وہب سے مراد عبداللہ ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1975) عن ابن السَّرْح، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1975) نے ابن السرح کے واسطے سے عبداللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (1777) و (1779) من طرق عن مالك.
نوٹ / توضیح: یہ پیچھے نمبر (1777) اور (1779) پر مالک کے مختلف طرق سے گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابن وہب سے مراد عبداللہ ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1975) عن ابن السَّرْح، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1975) نے ابن السرح کے واسطے سے عبداللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (1777) و (1779) من طرق عن مالك.
نوٹ / توضیح: یہ پیچھے نمبر (1777) اور (1779) پر مالک کے مختلف طرق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5882 سے ماخوذ ہے۔