کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحُسين بن الفَضْل، حدثني سَلْم بن إبراهيم صاحبُ المَصاحِف، حدثنا عِكرمة بن عمّار، حدثنا محمد بن القاسم، عن عبد الله بن حَنْظَلة: أن عبد الله بن سَلَام مَرّ في السُّوق وعلى رأسه حُزْمةُ حَطَب، فقال: أرفَعُ به الكِبْر، إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "لا يدخلُ الجنةَ من كان في قَلْبِه مِثقالُ حَبّةٍ من خَرْدَلٍ من كِبْر" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه في ذكر عبد الله بن سَلَام.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5757 - سالم بن إبراهيم واه
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن حنظلہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بازار سے گزرے جبکہ ان کے سر پر لکڑیوں کا گٹھا تھا، کسی نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ”میں اس کے ذریعے (اپنے نفس سے) تکبر دور کرتا ہوں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔““
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے تذکرے میں اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5866
درجۂ حدیث محدثین: المرفوع منه صحيح لغيره
تخریج حدیث «المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن القاسم فإنه لا يُعرَف، وذكره البخاري في "تاريخه" 1/ 214 وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 8/ 65 ولم يبيِّنا شيئًا من حاله، وذكره ابن حبان في "ثقاته" كعادته في ذكر المجاهيل، وسَلْم بن إبراهيم ضعيف متَّهم، ووهّاه الذهبي في ...» [ترقيم الرساله 5866] [ترقيم الشركة 5809] [ترقيم العلميه 5757]
حدثنا الشيخ الإمام أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن شَريك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني اللّيثُ، عن معاوية بن صالح، عن ربيعة بن يزيدَ، عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن يزيد بن عَمِيرة، قال: لما حَضَرَ معاذَ بنَ جبل الموتُ قيل له: يا أبا عبد الرحمن أَوصِنا، قال: أجلِسُوني، ثم قال: إنَّ العلمَ والإيمانَ مكانَهما، من ابتَغاهُما وَجَدَهما - يقوله ثلاث مرات - والتمِسُوا العلمَ عند أربعة رَهْطٍ: عُوَيمرٍ أبي الدَّرداء، وعند سلمانَ الفارسيِّ، وعند عبد الله بن مسعود، وعند عبد الله بن سَلَام الذي كان يهوديًّا ثم أسلم، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إنه عاشرُ عَشَرةٍ في الجنةِ" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5758 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
یزید بن عمیرہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے عرض کیا گیا: اے ابو عبدالرحمن! ہمیں وصیت کیجیے، انہوں نے کہا: مجھے بٹھا دو، پھر فرمایا: بیشک علم اور ایمان اپنی جگہ پر (مستحکم) ہیں، جو انہیں تلاش کرے گا وہ انہیں پا لے گا - یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی - اور تم علم ان چار افراد سے حاصل کرو: عویمر ابو الدرداء، سلمان فارسی، عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن سلام (رضی اللہ عنہم) جو پہلے یہودی تھے پھر اسلام لائے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وہ جنت میں (خوشخبری پانے والے) دس افراد میں دسویں ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5867
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وقد تقدَّم من طريق قتيبة بن سعيد عن الليث بن سعد برقم (5264)، وتقدَّم من طريقين أُخريين عن معاوية بن صالح برقم (338).» [ترقيم الرساله 5867] [ترقيم الشركة 5810] [ترقيم العلميه 5758]
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجّاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا عاصم بن بَهْدلةَ، عن مصعب بن سعد، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ أُتِي بقصْعةٍ، فأكل منها ففَضَلَتْ منها فَضْلةٌ، فقال رسول الله ﷺ: "يجيءُ رجلٌ من هذا الفَجِّ من أهل الجنَّة فيَأْكُلُ هذه" قال سعد: وكنت تركتُ عُميرًا أخي يتوضَّأ، فقلت: هو عُميرٌ، فجاء عبدُ الله بنُ سَلَام فأكلَها (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب سَلَمة بن سَلَامة بن وَقْش الأنصاريّ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5759 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کھانے کا ایک پیالہ لایا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا تو کچھ کھانا بچ گیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابھی اس گھاٹی سے ایک ایسا شخص نمودار ہوگا جو جنتی ہے اور وہ یہ بچا ہوا کھانا کھائے گا۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں (آتے ہوئے) اپنے بھائی عمیر کو وضو کرتے ہوئے چھوڑ کر آیا تھا، تو میں نے (دل میں) کہا کہ وہ عمیر ہی ہوگا، لیکن سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے وہ کھانا کھا لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5868
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسنٌ
تخریج حدیث «إسناده حسنٌ من أجل عاصم بن بَهْدلة: وهو ابن أبي النَّجُود. سعدٌ: هو ابن أبي وقاص.» [ترقيم الرساله 5868] [ترقيم الشركة 5811] [ترقيم العلميه 5759]