حدیث نمبر: 5865
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عوف بن سفيان، حدثنا أبو المغيرة عبد القُدُّوس بن الحجّاج، حدثنا صفوان بن عمرو، حدثني عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، عن أبيه، عن عوف بن مالك الأشْجَعي، قال: انطلقَ النبيُّ ﷺ وأنا معه حتى دخلْنا كنيسةَ اليهودِ، فقال: "يا معشرَ اليهود، أرُوني اثني عشر رجلًا يَشْهَدُون أن لا إله إلَّا الله وأن محمدًا رسول الله، يُحبِطِ اللهُ عن كل يهوديّ تحت أَدِيم السماء الغضبَ الذي غَضِبَ عليه" قال: فأَسكَتُوا ما أجابه منهم أحدٌ، ثم رَدّ عليهم فلم يُحبه منهم أحدٌ، فقال: "أبَيتُم؟! فواللهِ لأنا الحاشِرُ، وأنا العاقِبُ، وأنا النبيُّ المصطفى، آمنتُم أو كذَّبْتُم" ثم انصرف وأنا معه حتى كِدْنا أن نخرُجَ، فإذا رجلٌ من خَلْفِنا يقول: كما أنتَ يا محمدُ، فأقبل، فقال ذلك الرجلُ: أي رجل تَعلَمُوني فيكم يا معشَرَ اليهود؟ قالوا: والله ما نعلمُ أنه كان فينا رجلٌ أعلمَ بكتابِ الله منك، ولا أفقَهَ منك، ولا من أبيك قبلَك، ولا من جَدِّك قبلَ أبيك، قال: فإني أشهدُ له بالله أنه نَبيُّ الله الذي تَجِدُونه في التَّوراة، فقالوا: كَذَبْتَ، ثم ردُّوا عليه قولَه، وقالوا فيه شرًّا، فقال رسول الله ﷺ: "كذَبْتُم، لن يُقبل قولُكم، أما آنِفًا فتُثنُون عليه مِن الخَير ما أثنيتُم، وأما إذْ آمَنَ فَكَذَّبْتُموه وقلتُم فيه ما قلتُم؛ فلن يُقبَلَ قولُكم" قال: فخرجْنا ونحن ثلاثةٌ: رسولُ الله ﷺ وأنا وعبدُ الله بنُ سَلَام، وأنزل الله تعالى فيه: ﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ﴾ الآية [الأحقاف: 10] (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث حُميد عن أنس: "أيُّ رجلٍ عبدُ الله بن سَلَام فيكم؟ " مختصرًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5756 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ تشریف لے گئے اور میں بھی آپ کے ہمراہ تھا یہاں تک کہ ہم یہودیوں کے ایک عبادت خانے میں داخل ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے گروہِ یہود! مجھے ایسے بارہ آدمی دکھا دو جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، تو اللہ تعالیٰ آسمان کے نیچے موجود ہر یہودی سے وہ غضب ختم کر دے گا جو اس پر ہوا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ سب خاموش رہے اور ان میں سے کسی نے جواب نہ دیا، پھر آپ ﷺ نے دوبارہ اپنی بات دہرائی لیکن کسی نے جواب نہ دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے انکار کر دیا؟! تو اللہ کی قسم! میں ہی حاشر (لوگوں کو جمع کرنے والا) ہوں، میں ہی عاقب (سب کے بعد آنے والا) ہوں، اور میں ہی اللہ کا چیدہ و منتخب نبی ہوں، خواہ تم ایمان لاؤ یا جھٹلاؤ۔“ پھر آپ ﷺ واپس مڑ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ جب ہم باہر نکلنے ہی والے تھے تو اچانک ہمارے پیچھے سے ایک شخص نے آواز دی کہ اے محمد! آپ ذرا ٹھہرئیے، پھر وہ شخص آگے بڑھا اور (یہودیوں سے مخاطب ہو کر) کہنے لگا: ”اے گروہِ یہود! تم میرے متعلق اپنے اندر کیا جانتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے کہ ہم میں کوئی شخص آپ سے بڑھ کر اللہ کی کتاب کا عالم ہو، اور نہ ہی آپ سے بڑھ کر کوئی فقیہ ہے، نہ آپ سے پہلے آپ کا باپ اور نہ آپ کے باپ سے پہلے آپ کا دادا ایسا تھا۔“ اس پر اس شخص نے کہا: ”تو میں اللہ کو گواہ بنا کر اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ یہ اللہ کے وہی نبی ہیں جنہیں تم تورات میں لکھا ہوا پاتے ہو۔“ یہ سن کر وہ یہودی کہنے لگے: ”تم نے جھوٹ بولا“، پھر انہوں نے اس کی بات رد کر دی اور ان کے متعلق نازیبا کلمات کہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے جھوٹ بولا ہے، اب تمہاری بات قبول نہیں کی جائے گی، ابھی تھوڑی دیر پہلے تو تم ان کی اتنی خیر و بھلائی کے ساتھ تعریف کر رہے تھے اور اب جبکہ وہ ایمان لے آئے ہیں تو تم انہیں جھٹلا رہے ہو اور ان کے بارے میں جو جی میں آئے کہہ رہے ہو؛ لہذا تمہاری بات ہرگز تسلیم نہیں کی جائے گی۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم وہاں سے نکلے تو ہم تین افراد تھے: رسول اللہ ﷺ، میں اور عبداللہ بن سلام، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ﴾ [سورة الأحقاف: 10] ”آپ کہہ دیجیے کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ (قرآن) اللہ ہی کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کر دیا (تو تمہارا کیا حال ہوگا)؟“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، شیخین کا اتفاق صرف حمید کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت پر ہے جس میں ”تمہارے درمیان عبداللہ بن سلام کا کیا مقام ہے؟“ کے الفاظ اختصار کے ساتھ مذکور ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5865
درجۂ حدیث محدثین: رجاله لا بأس بهم
تخریج حدیث «رجاله لا بأس بهم، لكن قد يقع في حديث صفوان وعبد الرحمن بن جبير ما يُستنكَر، وقصة إسلام عبد الله بن سلام قد رُويَت عند أحمد 19/ (12057) والبخاري (3329) بسياق آخر مشهور، وإسناده أصحُّ.» [ترقيم الرساله 5865] [ترقيم الشركة 5808] [ترقيم العلميه 5756]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله لا بأس بهم، لكن قد يقع في حديث صفوان وعبد الرحمن بن جبير ما يُستنكَر، وقصة إسلام عبد الله بن سلام قد رُويَت عند أحمد 19/ (12057) والبخاري (3329) بسياق آخر مشهور، وإسناده أصحُّ.
درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں، لیکن صفوان اور عبدالرحمن بن جبیر کی حدیث میں بعض اوقات منکر باتیں آ جاتی ہیں۔ عبداللہ بن سلام کے قبولِ اسلام کا قصہ احمد (19/ 12057) اور بخاری (3329) میں ایک دوسرے مشہور سیاق کے ساتھ مروی ہے، اور اس کی سند زیادہ صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23984)، وأخرجه ابن حبان (7162) من طريق أبي نَشِيط محمد بن هارون النَّخَعي، كلاهما (أحمد وأبو نشيط) عن أبي المغيرة عبد القدوس بن الحجاج، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (39/ 23984) اور ابن حبان (7162) نے ابو نشیط محمد بن ہارون النخعی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (احمد اور ابو نشیط) ابو المغیرہ عبدالقدوس بن حجاج سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
(2) بل أخرجه البخاري (3329) و (3938) مطوّلًا، ولم يخرّجه مسلم.
اہم نکتہ: بلکہ اسے بخاری (3329 اور 3938) نے طویل روایت کیا ہے، اور مسلم نے اس کی تخریج نہیں کی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5865 سے ماخوذ ہے۔