المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ باب: جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا
حدثنا الشيخ الإمام أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن شَريك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني اللّيثُ، عن معاوية بن صالح، عن ربيعة بن يزيدَ، عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن يزيد بن عَمِيرة، قال: لما حَضَرَ معاذَ بنَ جبل الموتُ قيل له: يا أبا عبد الرحمن أَوصِنا، قال: أجلِسُوني، ثم قال: إنَّ العلمَ والإيمانَ مكانَهما، من ابتَغاهُما وَجَدَهما - يقوله ثلاث مرات - والتمِسُوا العلمَ عند أربعة رَهْطٍ: عُوَيمرٍ أبي الدَّرداء، وعند سلمانَ الفارسيِّ، وعند عبد الله بن مسعود، وعند عبد الله بن سَلَام الذي كان يهوديًّا ثم أسلم، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إنه عاشرُ عَشَرةٍ في الجنةِ" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5758 - صحيحیزید بن عمیرہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے عرض کیا گیا: اے ابو عبدالرحمن! ہمیں وصیت کیجیے، انہوں نے کہا: مجھے بٹھا دو، پھر فرمایا: بیشک علم اور ایمان اپنی جگہ پر (مستحکم) ہیں، جو انہیں تلاش کرے گا وہ انہیں پا لے گا - یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی - اور تم علم ان چار افراد سے حاصل کرو: عویمر ابو الدرداء، سلمان فارسی، عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن سلام (رضی اللہ عنہم) جو پہلے یہودی تھے پھر اسلام لائے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وہ جنت میں (خوشخبری پانے والے) دس افراد میں دسویں ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ یہ قتیبہ بن سعید عن لیث بن سعد کے طریق سے نمبر (5264) پر، اور معاویہ بن صالح کے دو دیگر طرق سے نمبر (338) پر گزر چکی ہے۔