المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ باب: جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا
حدیث نمبر: 5868
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجّاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا عاصم بن بَهْدلةَ، عن مصعب بن سعد، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ أُتِي بقصْعةٍ، فأكل منها ففَضَلَتْ منها فَضْلةٌ، فقال رسول الله ﷺ: "يجيءُ رجلٌ من هذا الفَجِّ من أهل الجنَّة فيَأْكُلُ هذه" قال سعد: وكنت تركتُ عُميرًا أخي يتوضَّأ، فقلت: هو عُميرٌ، فجاء عبدُ الله بنُ سَلَام فأكلَها (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب سَلَمة بن سَلَامة بن وَقْش الأنصاريّ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5759 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کھانے کا ایک پیالہ لایا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا تو کچھ کھانا بچ گیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابھی اس گھاٹی سے ایک ایسا شخص نمودار ہوگا جو جنتی ہے اور وہ یہ بچا ہوا کھانا کھائے گا۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں (آتے ہوئے) اپنے بھائی عمیر کو وضو کرتے ہوئے چھوڑ کر آیا تھا، تو میں نے (دل میں) کہا کہ وہ عمیر ہی ہوگا، لیکن سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے وہ کھانا کھا لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسنٌ من أجل عاصم بن بَهْدلة: وهو ابن أبي النَّجُود. سعدٌ: هو ابن أبي وقاص.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ عاصم بن بہدلہ (ابن ابی النجود) کی وجہ سے ہے۔ سعد سے مراد ابن ابی وقاص ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1458) و (1591)، وابن حبان (7164) من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (3/ 1458 اور 1591) اور ابن حبان (7164) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (1592) من طريق أبان بن يزيد العطار، عن عاصم به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (1592) نے ابان بن یزید العطار کے طریق سے عاصم سے روایت کیا ہے۔
وقد روى عامر بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه قال: ما سمعتُ رسول الله ﷺ يقول لأحدٍ يمشى على الأرض: إنه من أهل الجنة، إلّا لعبد الله بن سلام. وقد تقدم تخريجه بإثر (5862).
حوالہ / مصدر: عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو زمین پر چلنے والے کسی شخص کے بارے میں یہ کہتے نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے، سوائے عبداللہ بن سلام کے۔ اس کی تخریج (5862) کے بعد گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ عاصم بن بہدلہ (ابن ابی النجود) کی وجہ سے ہے۔ سعد سے مراد ابن ابی وقاص ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1458) و (1591)، وابن حبان (7164) من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (3/ 1458 اور 1591) اور ابن حبان (7164) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (1592) من طريق أبان بن يزيد العطار، عن عاصم به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (1592) نے ابان بن یزید العطار کے طریق سے عاصم سے روایت کیا ہے۔
وقد روى عامر بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه قال: ما سمعتُ رسول الله ﷺ يقول لأحدٍ يمشى على الأرض: إنه من أهل الجنة، إلّا لعبد الله بن سلام. وقد تقدم تخريجه بإثر (5862).
حوالہ / مصدر: عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو زمین پر چلنے والے کسی شخص کے بارے میں یہ کہتے نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے، سوائے عبداللہ بن سلام کے۔ اس کی تخریج (5862) کے بعد گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5868 سے ماخوذ ہے۔