کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آیتِ کریمہ: "اور لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی جان بیچ دیتا ہے" صہیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا إسماعيلُ بن إسحاقَ القاضي، حدثنا سليمانُ بن حَرْب، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن عِكرمةَ قال: [لمّا] خرجَ صُهيبٌ مهاجرًا، تَبِعَه أهلُ مكةَ، فنَثَل كِنانتَه فأخرجَ منها أربعينَ سهمًا، فقال: لا تَصِلُون إليَّ حتى أضَعَ في كلِّ رجلٍ منكم سهمًا، ثم أَصِيرَ بعدُ إلى السَّيف، فتَعلَمُون أني رجلٌ، وقد خَلَّفتُ بمكةَ قَينتَين (3) فهَنْئًا لكم (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5700 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5700 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عکرمہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہجرت کے لیے نکلے تو اہل مکہ نے ان کا پیچھا کیا، انہوں نے اپنا ترکش جھاڑ کر چالیس تیر نکالے اور فرمایا: ”تم مجھ تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک میں تم میں سے ہر شخص کو ایک ایک تیر نہ مار لوں، اس کے بعد میں تلوار نکالوں گا تو تم جان لو گے کہ میں کیسا مردِ میدان ہوں، اور سنو میں نے مکہ میں دو لونڈیاں چھوڑی ہیں وہ ہنسی خوشی تمہاری ہوئیں“۔
قال: وحدثنا حمّاد بن سَلَمة بن عن ثابت، عن أنس، نحوه، ونزلتْ على النبيِّ ﷺ: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ﴾ الآية [البقرة: 207]، فلما رآهُ النبيُّ ﷺ قال: "أبا يحيى، ربحَ البيعُ"، قال: وتَلَا عليه الآيةَ (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا صہیب کے متعلق نبی کریم ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ﴾ ”اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے“ [سورة البقرة: 207]، پس جب نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”اے ابو یحییٰ! تمہاری تجارت نفع بخش رہی“، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے انہیں یہ آیت سنائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو الحسن محمد بن عبد الله العُمَري، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُمَوي، حدثني أبي، حدثنا محمد بن عمرو، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن بن حاطِب، عن أبيه، قال قال عمرُ بن الخطاب لصُهيب: ما وَجَدتُ عليك في الإسلام إلَّا ثلاثةً: اكتَنَيتَ أبا يحيى، وقال الله ﷿: ﴿لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا﴾ [مريم:7]، قال: إيْهٍ، قال: وإنك لا تُمسِك شيئًا إلَّا أنفقتَه قال: إيْهٍ، قال: وإنك تُدعَى إلى النَّمِر بن قاسِط، وأنت من المُهاجِرين ممَّن أنعَمَ الله عليه. فقال صهيبٌ: أمَّا ما (1) تَكنَّيتُ أبا يحيى، فإنَّ رسول الله ﷺ كَنّاني أبا يحيى، وأما ما تقُول أني لا أُمسك شيئًا إلَّا أنفقتُه، فإنَّ الله تعالى يقول: ﴿وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ [سبأ: 39]، وأما ما تقولُ أني أُدعَى إلى النَّمِر بن قاسِط، فإنَّ العربَ تَسْبي بعضُها بعضًا، فَسَبَانِي طائفةٌ من العَرب بعد أن عَرفتُ أهلي ومَولِدي، فباعُوني بسَوادِ الكوفة، فأخذتُ لِسانَهم، ولو كنتُ من رَوْثةٍ ما انتسبتُ إلَّا إليها، قال: صدقتَ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5701 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5701 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اسلام لانے کے بعد مجھے تمہاری تین باتوں پر اعتراض ہے؛ ایک یہ کہ تم نے اپنی کنیت ابو یحییٰ رکھی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا﴾ ”ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا“ [سورة مريم: 7]، صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: اور دوسری بات؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مال ہاتھ میں نہیں رکھتے بلکہ سب خرچ کر دیتے ہو، صہیب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اور تیسری؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اپنا نسب نمر بن قاسط کی طرف بتاتے ہو حالانکہ تم ان مہاجرین میں سے ہو جن پر اللہ نے اپنا فضل کیا، تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جہاں تک ابو یحییٰ کنیت کا تعلق ہے تو یہ خود رسول اللہ ﷺ نے میری کنیت رکھی تھی، اور جہاں تک مال کے خرچ کرنے کی بات ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ ”اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو وہ اس کا بدلہ دیتا ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے“ [سورة سبأ: 39]، اور جہاں تک میرے نسب کا تعلق ہے تو عرب ایک دوسرے کو قیدی بنا لیا کرتے تھے، چنانچہ عربوں کے ایک گروہ نے مجھے قیدی بنایا جبکہ میں اپنے گھر والوں اور اپنی جائے پیدائش کو اچھی طرح جانتا تھا، پھر انہوں نے مجھے کوفہ کے مضافات میں بیچ دیا جہاں میں نے رومیوں کی زبان سیکھ لی، اور اگر میرا تعلق کسی معمولی قبیلے سے بھی ہوتا تب بھی میں اپنا نسب اسی کی طرف منسوب کرتا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا“۔
حدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا علي بن عبد الحميد بن زياد بن صَيفِيّ [عن أبيه] (1) عن جدِّه، عن صُهيب بن سِنان، قال: ما جعلتُ رسولَ الله ﷺ بيني وبين العدُوّ، وما كنتُ إِلَّا عن يَمينِه أو أَمامَه أو عن شِماله (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5702 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5702 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے (میدانِ جنگ میں) کبھی رسول اللہ ﷺ کو اپنے اور دشمن کے درمیان نہیں ہونے دیا، اور میں ہمیشہ آپ ﷺ کے دائیں، بائیں یا سامنے رہ کر آپ کا دفاع کرتا تھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا سعيد بن سليمان الواسِطي، حدثنا عبد الله بن المبارك، أخبرني عبد الحميد بن صَيفِيّ من وَلَد صُهيبٍ، عن أبيه، عن جدّه، عن صُهيب، قال: قَدِمتُ على رسول الله ﷺ بالهجرة، وهو يأكل تمرًا، فأقبلتُ آكُلُ من التمر وبِعَيْني رَمَدٌ، فقال رسول الله ﷺ: "أتأكُلُ التمرَ وبك رَمَدٌ؟ " فقلت: إنما آكُلُ على شِقِّي الصحيحِ الذي ليس به رَمَدٌ، قال: فَضَحِكَ رسولُ الله ﷺ (1) صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5703 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5703 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبد الحمید بن صیفی صہیب کی اولاد سے ہیں، وہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے اور وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کھجوریں کھا رہے تھے، میں بھی کھجوریں کھانے لگا حالانکہ میری ایک آنکھ میں تکلیف (آشوبِ چشم) تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کھجوریں کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھ دکھ رہی ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں تو اس طرف سے کھا رہا ہوں جو آنکھ صحیح ہے، راوی کہتے ہیں: اس پر رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔