حدیث نمبر: 5805
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا إسماعيلُ بن إسحاقَ القاضي، حدثنا سليمانُ بن حَرْب، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن عِكرمةَ قال: [لمّا] خرجَ صُهيبٌ مهاجرًا، تَبِعَه أهلُ مكةَ، فنَثَل كِنانتَه فأخرجَ منها أربعينَ سهمًا، فقال: لا تَصِلُون إليَّ حتى أضَعَ في كلِّ رجلٍ منكم سهمًا، ثم أَصِيرَ بعدُ إلى السَّيف، فتَعلَمُون أني رجلٌ، وقد خَلَّفتُ بمكةَ قَينتَين (3) فهَنْئًا لكم (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5700 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

عکرمہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہجرت کے لیے نکلے تو اہل مکہ نے ان کا پیچھا کیا، انہوں نے اپنا ترکش جھاڑ کر چالیس تیر نکالے اور فرمایا: ”تم مجھ تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک میں تم میں سے ہر شخص کو ایک ایک تیر نہ مار لوں، اس کے بعد میں تلوار نکالوں گا تو تم جان لو گے کہ میں کیسا مردِ میدان ہوں، اور سنو میں نے مکہ میں دو لونڈیاں چھوڑی ہیں وہ ہنسی خوشی تمہاری ہوئیں“۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5805
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، لكنه مرسل، فعكرمة تابعي، لكن الخبر مشهور مرويٌّ من وجوه غير أنَّ ذكر القَينَتين لم يَرِدْ إلّا في هذه الرواية، وجاء في غيرها ذكر المال مطلقًا.» [ترقيم الرساله 5805] [ترقيم الشركة 5750] [ترقيم العلميه 5700]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) لم تظهر الكلمة في (ز) و (ب)، ومكانها في (ص) بياض، وسقطت من (م)، وأثبتناها من "تلخيص المستدرك" للذهبي. والقَيْنَة: الأَمَةُ البيضاءُ؛ مُغنّية كانت أو غير مُغنِّية، وقيل: تختص بالمغنّية.
نوٹ / توضیح: یہ لفظ نسخہ (ز) اور (ب) میں ظاہر نہیں ہوا، نسخہ (ص) میں اس کی جگہ خالی (بیاض) ہے، اور (م) سے گر گیا ہے۔ ہم نے اسے ذہبی کی "تلخیص المستدرک" سے ثابت کیا ہے۔ "القَینَہ" کا مطلب ہے: سفید فام لونڈی؛ خواہ وہ گانے والی ہو یا نہ ہو، اور بعض نے کہا کہ یہ خاص طور پر گانے والی لونڈی کے لیے بولا جاتا ہے۔
(4) رجاله ثقات، لكنه مرسل، فعكرمة تابعي، لكن الخبر مشهور مرويٌّ من وجوه غير أنَّ ذكر القَينَتين لم يَرِدْ إلّا في هذه الرواية، وجاء في غيرها ذكر المال مطلقًا.
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن یہ "مرسل" ہے کیونکہ عکرمہ تابعي ہیں۔
اہم نکتہ: البتہ یہ خبر مشہور ہے اور کئی دوسرے طرق سے مروی ہے، سوائے اس کے کہ "دو لونڈیوں" (القینتین) کا ذکر صرف اسی روایت میں آیا ہے، جبکہ دیگر روایات میں مطلق مال کا ذکر ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (5812). ويشهد له مرسل أبي عثمان النَّهدي عند ابن سعد 3/ 208، وأحمد في "فضائل الصحابة" (1509)، وابن حبان (7082)، وغيرهم بسند رجاله ثقات.
متابعات و شواہد: اور وہ دیکھیں جو آگے نمبر (5812) پر آئے گا۔ اس کی تائید ابو عثمان النہدی کی مرسل روایت سے ہوتی ہے جو ابن سعد (3/ 208)، احمد کی "فضائل الصحابة" (1509) اور ابن حبان (7082) وغیرہ میں ایسی سند کے ساتھ ہے جس کے رجال ثقہ ہیں۔
قوله: نَثَل كِنانته، أي: استخرج السِّهام من الجَعْبة.
نوٹ / توضیح: قولہ "نَثَل کِنَانَتَہ" کا مطلب ہے: اس نے اپنے ترکش سے تیر نکالے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5805 سے ماخوذ ہے۔