کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو جب دو باتوں میں اختیار دیا گیا تو انہوں نے زیادہ ہدایت والی بات کو اختیار کیا
حدثني علي بن عيسى الحِيرِي ومحمد بن موسى الصَّيدَلاني، قالا: حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُريب ويعقوبُ الدَّوْرَقي، قالا: حدثنا وكيعٌ، عن سفيان، عن عمار بن أبي معاوية الدُّهْني، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ: "ابن سُميّة ما عُرِضَ عليه أمرانِ قَطُّ إلَّا أخذَ بالأرشَدِ منهما" (1). صحيح على شرط الشيخين إن كان سالم بن أبي الجَعْد سمع من عبد الله بن مسعود، ولم يُخرجاه. وله متابعٌ من حديث عائشة ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5664 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5664 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سمیہ کے بیٹے (عمار) کے سامنے جب بھی دو کام پیش کیے گئے تو انہوں نے ہمیشہ ان میں سے زیادہ ہدایت والے کام کو اختیار کیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اگر سالم بن ابی الجعد کا سماع عبداللہ بن مسعود سے ثابت ہو، اور انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بھی اس کا متابع موجود ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اگر سالم بن ابی الجعد کا سماع عبداللہ بن مسعود سے ثابت ہو، اور انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بھی اس کا متابع موجود ہے۔
أخبرَناهُ أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا عبد العزيز بن سِيَاهٍ، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن عطاء بن يَسَار، عن عائشة، قالت: قال رسول الله ﷺ: "ما خُيِّر عمارٌ بين أمرَين إلَّا اختارَ أَرشَدَهُما" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5665 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5665 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عمار کو جب بھی دو کاموں کے درمیان اختیار دیا گیا تو انہوں نے ان میں سے زیادہ ہدایت والے کام کو ہی پسند کیا۔“
أخبرَناهُ إبراهيم بن عِصْمة العَدْل، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا مُسلم بن إبراهيم، حدثنا هشام بن أبي عبد الله، عن أبي الزُّبير عن جابر: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ بعمارٍ وأهلِه وهم يُعذَّبُون، فقال: "أبشِروا آلَ عَمّار - أو آلَ ياسر - فإن مَوعِدَكم الجنةُ" (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5666 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5666 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر سیدنا عمار اور ان کے گھر والوں کے پاس سے ہوا جبکہ انہیں (مکہ میں) عذاب دیا جا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے آلِ عمار - یا فرمایا: اے آلِ یاسر - تمہیں خوشخبری ہو، تمہارے (ملنے کا) وعدہ جنت ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔