کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے قاتل اور ان کا سامان لینے والے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کا بیان
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرحمن بن المُبَارك، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ رجُلَين أتيا عمرَو بنَ العاص يَختصِمان في دمِ عمّار بن ياسر وسَلَبِه، فقال عمرو: خَلِّيا عنه؛ فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "اللهمَّ أُولِعَت قُريشٌ بعمّارٍ، قاتلُ عمّار وسالِبُه في النارِ" (1). تفرَّد به عبدُ الرحمن بن المُبَارك - وهو ثقةٌ مأمُون - عن مُعتمِر عن أبيه، فإن كان محفوظًا فإنه صحيحٌ على شرط الشَّيخَين، وإنما رواهُ الناسُ عن مُعتمِر عن لَيثٍ عن مُجاهِد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5661 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5661 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمی عمرو بن عاص کے پاس سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے خون اور ان کے سامان کے متعلق جھگڑتے ہوئے آئے، تو عمرو نے کہا: اسے چھوڑ دو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے اللہ! قریش عمار کے پیچھے پڑ گئے ہیں“، عمار کا قاتل اور ان کا سامان چھیننے والا آگ میں ہے۔
عبد الرحمن بن مبارک - جو کہ ثقہ اور قابلِ بھروسہ ہیں - اس روایت کو معتمر سے اور وہ اپنے والد سے نقل کرنے میں منفرد ہیں، پس اگر یہ محفوظ ہے تو شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور عام طور پر لوگوں نے اسے معتمر کے واسطے سے لیث سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کیا ہے۔
عبد الرحمن بن مبارک - جو کہ ثقہ اور قابلِ بھروسہ ہیں - اس روایت کو معتمر سے اور وہ اپنے والد سے نقل کرنے میں منفرد ہیں، پس اگر یہ محفوظ ہے تو شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور عام طور پر لوگوں نے اسے معتمر کے واسطے سے لیث سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کیا ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سُليمان الأصبَهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن سفيان. وأخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنْطَري، حدثنا أبو قِلابَة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن هانئ بن هانئ، عن علي، قال: استأذَنَ عمّارُ بنُ ياسر على النبيِّ ﷺ وأنا عندَه فقال: "ائذَنُوا له" فلما دخل قال رسولُ الله ﷺ: "مَرحبًا بالطَّيِّبِ المُطيَّبِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5662 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5662 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی جبکہ میں آپ ﷺ کے پاس تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو“، پھر جب وہ داخل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خوش آمدید! اے پاکیزہ اور پاک کیے گئے (شخص)۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد النَّحْوي ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا قَبِيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاقَ، عن حارثة بن مُضَرِّب، قال: كتبَ إلينا عمرُ بن الخطاب: إني قد بعثتُ إليكم عمارَ بن ياسرٍ أميرًا، وعبدَ الله بنَ مَسعُود مُعلِّمًا ووزيرًا، وهما من النُّجَباء من أصحاب محمدٍ ﷺ، من أهل بدرٍ فاسمَعُوا، وقد جعلتُ ابنَ مَسعُود على بيتِ مالِكُم؛ فاسمَعُوا فتعلَّمُوا منهما، واقتَدُوا بهما، وقد آثرتُكم بعبدِ الله على نَفْسى (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5663 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5663 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
حارثہ بن مضرب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں تحریر فرمایا: ”میں تمہاری طرف عمار بن یاسر کو امیر اور عبداللہ بن مسعود کو معلم اور وزیر بنا کر بھیج رہا ہوں، یہ دونوں محمد ﷺ کے اصحاب میں سے بلند مرتبہ اور اہل بدر میں سے ہیں، پس تم ان کی بات سننا، اور میں نے ابن مسعود کو تمہارے بیت المال کا نگران مقرر کیا ہے، پس ان کی بات سننا اور ان سے علم حاصل کرنا اور ان کی پیروی کرنا، اور بیشک میں نے تمہارے معاملے میں عبداللہ (بن مسعود) کو اپنی ذات پر ترجیح دی ہے (کہ انہیں اپنے پاس رکھنے کے بجائے تمہاری طرف بھیج دیا)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔