کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان: جو عمار کو گالی دے گا اللہ اسے گالی دے گا
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزُوق، حدثنا أبو داود الطَّيَالسي، حدثنا شُعبة، أخبرني سلَمة بن كُهَيل، سمعتُ محمد بن عبد الرحمن بن يزيد يحدِّث عن أبيه، عن الأشتَرِ، عن خالد بن الوليد، قال: كان بيني وبين عَمّار شيءٌ، فشَكَوتُه إلى رسول الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ: "من يَسُبُّ عمارًا يَسُبُّه اللهُ، ومن يُعادِي عمارًا يُعادِيهِ الله" (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5667 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5667 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ (ناخوشگواری) تھی، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کی شکایت کی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص عمار کو برا بھلا کہتا ہے، اللہ اسے برا کہتا ہے، اور جو عمار سے دشمنی رکھتا ہے، اللہ اس سے دشمنی رکھتا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو الوليد الفقيه وأبو بكر بن قُريش، قالا: حدثنا الحسنُ بن سفيان، حدثنا حَرْملَة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن جدِّه: سمعتُ عمّار بن ياسر بصِفِّين في اليوم الذي قُتل فيه وهو يُنادي: أُزلِفَتِ الجنةُ، وزُوِّجَتِ الحُورُ العِينُ، اليومَ نلقى حبيبنَا محمدًا ﷺ، عَهِد إليَّ أنّ آخرَ زادِك من الدنيا ضَيْحٌ من لَبَنٍ (1). صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5668 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5668 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ صفین کے اس دن جس میں وہ شہید ہوئے، وہ پکار رہے تھے: ”جنت قریب آ گئی، اور بڑی آنکھوں والی حوروں سے نکاح ہو گیا، آج ہم اپنے محبوب محمد ﷺ سے ملیں گے، آپ ﷺ نے مجھ سے یہ عہد فرمایا تھا کہ دنیا سے تمہارا آخری زادِ راہ دودھ کا ایک گھونٹ ہوگا“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم ومحمد بن كثير، قالا: حدثنا سفيان، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن أبي البَخْتَري: أن عمار بن ياسر أُي بشَرْبةٍ من لَبَنٍ، فضَحِك، فقيل له: ما يُضحِكُك؟ فقال: إنَّ رسولَ الله ﷺ قال: آخِرُ شَرابٍ أشربُه حتى أموتَ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5669 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5669 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابو البختری سے روایت ہے کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس دودھ لایا گیا تو وہ ہنس پڑے، ان سے پوچھا گیا: آپ کو کس بات نے ہنسایا؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ موت تک میرا آخری مشروب (دودھ کا گھونٹ) ہوگا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔