کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کی تدفین سے متعلق وصیت کا بیان
حدثنا علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِيّ، حدثنا طَلْق بن غَنَّامِ النَّخَعي، حدثنا محمد بن عِكرمة، عن أبيه، حدثني عبد الله بن خَبّاب بن الأرَتّ، قال: كان الناسُ يَدفِنُون مَوتاهُم بالكوفة، حتى جاء خَبَّابًا سَهمٌ، فلما ثَقُلَ قال لي: يا بُنيّ، ادفِنّي بالظَّهْر، فإنك لو دَفَنْتَني بالظَّهْر قيل: دُفِنَ رجلٌ من أصحابِ رسول الله ﷺ، فلما ماتَ خبَّاب دُفِن بالظَّهْر، فكان أولَ مَدفُونٍ دُفِن بالظَّهر، فدَفَنَ الناسُ مَوتاهُم بالظَّهْر (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کوفہ میں لوگ اپنے مردوں کو شہر کے اندر ہی دفن کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا اور وہ صاحبِ فراش ہو گئے تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! مجھے ”الظہر“ (کوفہ سے باہر بلند مقام) پر دفن کرنا، کیونکہ اگر تم مجھے وہاں دفن کرو گے تو کہا جائے گا کہ یہاں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص دفن ہے“، چنانچہ جب سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو انہیں ”الظہر“ پر دفن کیا گیا، وہ اس مقام پر دفن ہونے والے پہلے شخص تھے، پھر ان کے بعد لوگوں نے اپنے مردوں کو وہاں دفن کرنا شروع کر دیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5741
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة محمد بن عكرمة» [ترقيم الرساله 5741] [ترقيم الشركة 5687]
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: خَبّاب بن الأرَتِّ بن جَنْدَلة بن سعْد بن خُزيمة بن كَعْب بن سعد من بني سعد بن زيدِ مَناةَ، وكان فيما ذُكِر أنه سُبِيَ بمكةَ، فاشتَرتْه أمُّ أنمارٍ بنت سِبَاعٍ الخُزَاعيّة، وآخَى رسولُ الله ﷺ بين خبّابٍ وبين جُبير بن عَتِيك، وشهد خبّابٌ بدرًا وأحدًا والخندقَ والمَشاهِدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ، وتُوفي خبّاب سنة سبع وثلاثين وهو يومئذٍ ابن ثلاثٍ وسبعينَ سنةً (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر (الواقدی) بیان کرتے ہیں کہ سیدنا خباب بن ارت کا نسب جندلہ بن سعد بن خزیمہ سے ہوتا ہوا بنی سعد بن زید مناۃ تک پہنچتا ہے، ان کے متعلق ذکر کیا گیا ہے کہ انہیں مکہ میں قیدی بنا کر لایا گیا تھا جہاں انہیں ام انمار بنت سباع خزاعیہ نے خرید لیا تھا، رسول اللہ ﷺ نے سیدنا خباب اور سیدنا جبیر بن عتیک رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ غزوہ بدر، احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام معرکوں میں شریک رہے، آپ کی وفات سن 37 ہجری میں ہوئی اور اس وقت آپ کی عمر تہتر برس تھی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5742
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5742] [ترقيم الشركة 5688]
حدثنا عبد الباقي بن قانِع، حدثنا إبراهيم بن أحمد بن عُمر الوَكِيعي، [حدثنا الأزرق بن علي] حدثنا حسان بن إبراهيم، حدثنا محمد بن سَلَمة (2) بن كُهيل [عن أبيه] (3) عن المغيرة بن عبد الله اليَشْكُري، عن قيس بن أبي حازم، عن خَبّاب، قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ وهو مُضطَجِعٌ تحت شجرةٍ واضعٌ يدَه تحت رأسِه، فقلتُ: يا رسولَ الله، ألا تدعُو الله على هؤلاء القومِ الذين قد خَشِينا أن يَرُدُّونا عن دِيننا؟ فصَرَف عنّي وجهَه ثلاثَ مَرّاتٍ، كلَّ ذلك أقولُ له فيصرِفُ وجهَه عني، فجلَس في الثالثة، فقال: "أيُّها الناسُ، اتقُوا الله واصبِرُوا؛ فوالله إن كان الرجلُ من المؤمنين قبلَكم لَيُوضَعُ المِنشارُ على رأسِه، فيُشَقُّ باثنتَين، وما يَرتدُّ عن دِينِه، اتقُوا الله، فإنَّ الله فاتحٌ لكم وصانعٌ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5643 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ ایک درخت کے نیچے اپنا دستِ مبارک سر کے نیچے رکھ کر آرام فرما رہے تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ان لوگوں (کفار) کے خلاف اللہ سے دعا نہیں فرمائیں گے جن کے متعلق ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ ہمیں ہمارے دین سے پھیر دیں گے؟ آپ ﷺ نے تین مرتبہ مجھ سے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا، میں ہر بار یہی عرض کرتا رہا اور آپ ﷺ اعراض فرماتے رہے، تیسری مرتبہ آپ ﷺ بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور صبر سے کام لو؛ اللہ کی قسم! تم سے پہلے مومنین میں سے کسی شخص کے سر پر آرا رکھ دیا جاتا اور اسے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا، مگر یہ آزمائش بھی اسے اس کے دین سے نہیں پھیر سکتی تھی، پس اللہ سے ڈرو، یقیناً اللہ تمہیں فتح عطا فرمانے والا اور (تمہارے حق میں) بہتر کرنے والا ہے“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5743
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل محمد بن سلمة بن كُهيل، فهو متروك الحديث، وقد تابعه أخوه يحيى، وهو مثلُه متروك الحديث. لكن يُروى هذا الحديث من طريق أخرى صحيحة بسياقة أخرى كما سيأتي بيانه، وهي تُغني عن هذه الرواية.» [ترقيم الرساله 5743] [ترقيم الشركة 5689] [ترقيم العلميه 5643]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سُليمان، حدثنا أسَدُ بن موسى، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمَش، عن أبي إسحاقَ، عن حارثة بن مُضَرِّب، عن خَبّاب، قال: لقد خَشِيتُ أن يَذهبَ بأُجورِنا مع رسولِ الله ﷺ ما أصَبْنا بعدَه من الدُّنيا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب عَمّار بن ياسِر ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5644 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جو اجر و ثواب ہم نے کمایا تھا وہ اس دنیا کی وجہ سے ضائع نہ ہو جائے جو آپ ﷺ کے بعد ہمیں حاصل ہوئی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5744
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضَّرير، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي. وأخرجه الطبراني في "الكبير" (3679) عن المقدام بن داود الرُّعَيني، عن أسد بن موسى، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 5744] [ترقيم الشركة 5690] [ترقيم العلميه 5644]