کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا محمد بن طلحہ بن عبید اللہ السجّاد رضی اللہ عنہما کے مناقب کا بیان
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، قال: سمعتُ مُصعبًا الزُّبيري يقول: محمد بن طلحة بن عُبيد الله أمُّه حَمْنةُ بنت جَحْش (1).
حافظ طلحہ بابر
مصعب الزبیری سے روایت ہے کہ محمد بن طلحہ بن عبید اللہ کی والدہ حمنہ بنت جحش (رضی اللہ عنہا) تھیں۔
أخبرني الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا بَشّار بن موسى، حدثنا الحاطِبي، عن أبيه، عن جَدِّه محمد بن حاطِب، قال: لما فَرَغْنا من قتالِ الجَمَل قام عليٌّ والحَسَنُ (2) بن عليٍّ وعمّار بن ياسر وصَعصَعة بن صُوحان والأشْتَر ومحمد بن أبي بكر يَطُوفون في القتلى، فأبصَرَ الحسن بن عليٍّ قتيلًا مكبوبًا على وجهِه، فأكَبَّه على قَفاهُ، فقال: إنّا لله وإنّا إليه راجِعُونَ، فَرْخُ قُريشٍ واللهِ!! فقال له أبوه: ما هو يا بُنيّ؟ قال: محمدُ بنُ طلحة، فقال: إنّا الله وإنّا إليه راجِعُون، إن كان ما علِمتُه لشابًّا صالحًا، ثم قعد كَئيبًا حَزينًا (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم جنگ جمل کے معرکے سے فارغ ہوئے تو سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا صعصعہ بن صوحان، سیدنا اشتر اور سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہم مقتولین کے درمیان چکر لگانے لگے، اچانک سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی نظر ایک ایسے مقتول پر پڑی جو چہرے کے بل گرا ہوا تھا، انہوں نے اسے پیٹھ کے بل سیدھا کیا اور فرمایا: ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“ [سورة البقرة: 156]، اللہ کی قسم! یہ تو قریش کا شہزادہ اور ان کا چشم و چراغ ہے، ان کے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے دریافت فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے! یہ کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یہ محمد بن طلحہ ہیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (بھی) فرمایا: ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“ [سورة البقرة: 156]، اللہ کی قسم! میرے علم کے مطابق یہ ایک انتہائی صالح اور نیک نوجوان تھا، پھر آپ رنج و ملال کی کیفیت میں وہیں بیٹھ گئے۔
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، حدثني محمد بن الضّحّاك بن عثمان الحِزَامي، عن أبيه: كان هَوَى محمد بن طَلْحة مع عليّ بن أبي طالب، ونَهى عليٌّ عن قَتْله، وقال: مَن رأى صاحبَ البُرنُس الأسودِ فلا يَقتُلْه؛ يعني محمدًا، فقال محمدٌ لعائشةَ يومئذٍ: يا أُمّاه، ما تأمُرِيني؟ قالت: أرى أن تكون كخَيرِ ابنَي آدمَ؛ أَن تَكُفَّ يدَك، فكفَّ يدَه، فقتَلَه رجلٌ من بني أسَد بن خُزيمة يقال له: طلحة بن مُدْلِج من بني مُنقِذ بن طَريف، ويقال: قتلَه شَدّاد بن معاوية العَبْسي (2)، ويقال: بل قتله عِصام بن مُقشَعِرّ النَّصْري (3)، وعليه كَثْرةُ الحديثِ، وهو الذي يقولُ في قَتْلِه: وأشعَثَ قَوّامٍ بآياتِ رَبِّهِ … قليلِ الأذَى فيما يَرى الناسُ مُسلِمِ دَلَفتُ له بالرُّمْحِ من تحتِ بَزِّهِ … فَخَرَّ صَرِيعًا لليَدَينِ وللفَمِ شَكَكْتُ إليه بالسِّنَانِ قَميصَهُ … فأردَيتُه من ظَهرِ طِرْفٍ مُسَوَّمِ أقمتُ له في دَفْعةِ الخيل صُلْبَهُ … بمِثلِ قُدامَى (1) النَّسْرِ حَرّانَ كَيْزَمِ يُذكَّرني (حاميمَ) لما طَعَنتُهُ … فهلّا تَلا (حاميمَ) قبلَ التَّقدُّمِ على غَيرِ شيءٍ غيرَ أنْ ليسَ تابِعًا … عليًّا ومَن لا يَنْبَعِ الحقَّ يَظلِمِ قال: فقال عليٌّ لما رآه صَريعًا: صَرَعَه هذا المَصرَعَ بِرُّ أبيه (2).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن ضحاک بن عثمان الحزامی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ محمد بن طلحہ کا میلان سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھی، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے قتل سے منع فرمایا تھا، آپ نے فرمایا تھا: ”جو سیاہ رنگ کی ٹوپی والے (برنس) کو دیکھے تو اسے قتل نہ کرے“، اس سے مراد محمد بن طلحہ تھے، محمد بن طلحہ نے اس دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے امی جان! آپ مجھے کیا حکم دیتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم آدم کے دو بیٹوں میں سے بہتر (ہابیل) کی طرح ہو جاؤ؛ یعنی اپنا ہاتھ روک لو ﴿لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ﴾ [سورة المائدة: 28]، چنانچہ انہوں نے اپنا ہاتھ روک لیا، پھر انہیں بنی اسد بن خزیمہ کے ایک شخص نے قتل کر دیا جسے طلحہ بن مدلج کہا جاتا تھا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں شداد بن معاویہ عبسی نے قتل کیا، جبکہ ایک قول یہ بھی ہے کہ انہیں عصام بن مقشعر نصری نے قتل کیا، اور اسی قول کے متعلق زیادہ احادیث ہیں، اور یہ وہی شخص ہے جس نے ان کے قتل کے متعلق یہ اشعار کہے: ”«وأشعَثَ قَوّامٍ بآياتِ رَبِّهِ» اور ایک پراگندہ حال آدمی کو، جو اپنے رب کی آیات کے ساتھ بہت قیام کرنے والا تھا، «قليلِ الأذَى فيما يَرى الناسُ مُسلِمِ» اور لوگوں کی نظر میں کم اذیت دینے والا، ایک مسلمان شخص تھا۔ «دَلَفتُ له بالرُّمْحِ من تحتِ بَزِّهِ» میں نے اس کے لباس کے نیچے سے اس پر نیزہ مارا، «فَخَرَّ صَرِيعًا لليَدَينِ وللفَمِ» تو وہ ہاتھوں اور منہ کے بل گرا ہوا رہ گیا۔ «شَكَكْتُ إليه بالسِّنَانِ قَميصَهُ» میں نے اپنے نیزے کی انی اس کے قمیص تک پہنچا دی، «فأردَيتُه من ظَهرِ طِرْفٍ مُسَوَّمِ» اور ایک نشان زدہ تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر اسے گرا دیا۔ «أقمتُ له في دَفْعةِ الخيل صُلْبَهُ» گھوڑوں کے دھکے اور یلغار کے وقت میں نے اس کے جسم کو سامنے جما ہوا پایا، «بمِثلِ قُدامَى النَّسْرِ حَرّانَ كَيْزَمِ» گویا وہ ایک بوڑھے مگر سخت جان گدھ کی مانند تھا۔ «يُذكَّرني (حاميمَ) لما طَعَنتُهُ» جب میں نے اسے نیزہ مارا تو وہ مجھے "حٰمٓ" یاد دلا رہا تھا، «فهلّا تَلا (حاميمَ) قبلَ التَّقدُّمِ» تو وہ آگے بڑھنے سے پہلے "حٰمٓ" کیوں نہ پڑھ لیتا؟ «على غَيرِ شيءٍ غيرَ أنْ ليسَ تابِعًا» میں نے اسے کسی اور وجہ سے نہیں مارا، «عليًّا ومَن لا يَنْبَعِ الحقَّ يَظلِمِ» سوائے اس کے کہ وہ علی کا پیروکار نہ تھا، اور جو حق کی پیروی نہ کرے وہ ظلم کرتا ہے۔“۔ راوی کہتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں مقتول دیکھا تو فرمایا: ”اسے یہ مصرع (موت کا یہ مقام) اس کے باپ کی نیکی نے گرایا۔“
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا سعيد بن سليمان الواسِطيّ، حدثنا إسحاق بن يحيى بن طلحة، حدثني عمِّي عيسى بن طلحة، عن عائشة أم المؤمنين، قالت: قال أبو بكر الصِّدّيق: كنتُ أولَ مَن فاءَ إلى رسولِ الله ﷺ، ومعه طلحةُ بنُ عُبيد الله، وإذا طلحةُ قد غَلبَه البَرْدُ ورسولُ الله ﷺ أمثلُ بَلَلًا منه، فقال لنا رسول الله ﷺ: "عليكُم بصاحبِكُم" فتركناهُ وأقبلْنا عليه، وإذا مِغْفَرُه قد عَلِقَ بوَجْنتَيه، وبينَه وبين المَشرقِ رجلٌ أنا أقربُ إلى رسولِ الله ﷺ منه، فإذا هو أبو عُبيدة بن الجَرّاح، فذهبتُ لأَنزعَ المِغفَرَ، فقال أبو عُبيدة: أنشُدُكَ الله يا أبا بكر إلّا تَركْتَني؟ فتركتُه فجَذَبَها فانتُزِعَت ثَنِيَّةُ أبي عُبيدة، قال: فذهبتُ لأنزِعَ الحَلْقةَ الأخرى، فقال لي أبو عُبيدة مثلَ ذلك، فانتزَعَ الحَلْقَةَ الأخرى، فانتُزع ثَنِيَّةُ أبي عُبيدة الأخرى، فقال رسول الله ﷺ: "أمَا إنَّ صَاحِبَكُم قد استَوجَبَ" أو "أوجَبَ طلحةُ" (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5610 - لا والله
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5610 - لا والله
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں پہلا شخص تھا جو (احد کے دن) رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹا اور میرے ساتھ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ پر اس وقت غشی طاری تھی جبکہ رسول اللہ ﷺ ان کے مقابلے میں بہتر حالت میں تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی (طلحہ) کو سنبھالو“، چنانچہ ہم نے آپ ﷺ کو چھوڑ دیا اور ان کی طرف متوجہ ہوئے، دیکھا تو ان کی زرہ کے خود (ٹوپی) کے حلقے ان کے رخساروں میں دھنسے ہوئے تھے، اسی دوران مشرق کی جانب سے ایک شخص نمودار ہوا جو مجھ سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے قریب تھا، دیکھا تو وہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، میں خود کے حلقے نکالنے کے لیے آگے بڑھا تو سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے یہ کام کرنے دیں، چنانچہ میں نے انہیں چھوڑ دیا، انہوں نے (اپنے دانتوں سے) اسے کھینچا تو ان کا سامنے کا ایک دانت ٹوٹ گیا، پھر میں دوسرا حلقہ نکالنے کے لیے آگے بڑھا تو سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے پھر ویسا ہی کہا، انہوں نے وہ دوسرا حلقہ بھی نکالا تو ان کا سامنے کا دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ تمہارے ساتھی (طلحہ) نے (جنت) واجب کر لی ہے“ یا ”طلحہ نے «أَوْجَبَ» (جنت واجب) کر لی“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيعُ بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني إسحاق بن يحيى، عن عيسى بن طلحة بن عُبيد الله، قال: دخلتُ على أمِّ المؤمنين وعائشةَ بنتِ طلحة، وهي تقولُ لأمِّها أسماءَ: أنا خيرٌ منكِ، وأبي خيرٌ من أبيكِ، قال: فجَعَلَت أمُّها تَشتِمُها وتقولُ: أنتِ خيرٌ منّي؟! فقالت أم المؤمنين عائشةُ: ألا أقضِي بينكما؟ قالت: بلى، قالت: فإنَّ أبا بكر دخل على رسول الله ﷺ، فقال: "يا أبا بكرٍ، أنتَ عَتِيقُ اللهِ من النار" قالت: فمن يومِئذٍ سُمّي عَتِيقًا، ولم يكن سُمِّي قبلَ ذلك عَتِيقًا، قالت: ثم دخل طلحةُ بن عُبيد الله، فقال: "أنت يا طَلْحَةُ ممَّن قَضَى نَحْبَه" (2). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5611 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5611 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ سے روایت ہے کہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور عائشہ بنت طلحہ کے پاس گیا، اس وقت عائشہ بنت طلحہ اپنی والدہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے کہہ رہی تھیں: میں آپ سے بہتر ہوں اور میرے والد آپ کے والد سے بہتر ہیں، راوی کہتے ہیں: تو ان کی والدہ انہیں ڈانٹنے لگیں اور کہنے لگیں: تو مجھ سے بہتر ہے؟! تب ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا میں تمہارے درمیان فیصلہ نہ کر دوں؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بیشک سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! تم اللہ کی طرف سے آگ سے آزاد «عَتِيقُ اللهِ مِنَ النَّارِ» ہو“، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اسی دن سے ان کا نام ”عتیق“ پڑ گیا حالانکہ اس سے پہلے ان کا نام عتیق نہیں تھا، پھر سیدہ عائشہ نے فرمایا: پھر سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے طلحہ! تم ان لوگوں میں سے ہو جنہوں نے اپنی نذر پوری کر دی «مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ»“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔