کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: محمد بن طلحہ بن عبیداللہ سجاد رضی اللہ عنہ کے فضائل محمد بن طلحہ عبادت گزار نیک لوگوں میں سے تھے ، نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام ان کی ذات سے اور ان کی دعاء سے برکت حاصل کیا کرتے تھے ، یہ وہ پہلے شخص ہیں جن کو ’’ سجاد ‘‘ کے لقب سے ملقب کیا گیا ۔ اس کے صحیح ہونے کا ثبوت ہمیں ابوعبداللہ الاصفہانی نے دیا ہے ۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی اس کا ذکر کر چکے ہیں ۔

المستدرك على الصحيحين

حدثنا بصِحّة ذلك أبو عبد الله الأصبَهاني كما قدّمتُ ذِكرَه (3).
حافظ طلحہ بابر
ابو عبداللہ الاصبہانی نے اس (پچھلی روایت) کی صحت کے متعلق ویسے ہی بیان کیا ہے جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5705
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5705]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا أبو شَيْبة إبراهيم بن عُثمان، عن محمد بن عبد الرحمن مولى آل طَلْحة، عن عيسى بن طلحة، حدثتْني ظِئرٌ لمحمّد بن طَلْحة قالت: لما وُلِد محمّدُ بنُ طلحةَ أتينا به النبيَّ ﷺ، فقال: "ما سَمَّيتُموه؟ " فقلنا: محمّدًا، فقال: "هذا سَمِيِّي، وكنيتُه أبو القاسم" (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5606 - أبو شيبة واه
حافظ طلحہ بابر
عیسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ محمد بن طلحہ کی دایہ (دودھ پلانے والی) نے مجھ سے بیان کیا کہ جب محمد بن طلحہ پیدا ہوئے تو ہم انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لائے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: محمد۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرا ہم نام ہے اور اس کی کنیت ابو القاسم ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5706
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل أبي شيبة إبراهيم بن عثمان - وهو العبسي مولاهم - فهو واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه". وأخرجه ابن سعد 7/ 57، وابن أبي شيبة في "مسنده" كما في "المطالب العالية" (2799)، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (669) و (3206)، والطبراني في "الكبير" 25/ (459)، ...» [ترقيم الرساله 5706] [ترقيم الشركة 5652] [ترقيم العلميه 5606]