حدیث نمبر: 5710
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا سعيد بن سليمان الواسِطيّ، حدثنا إسحاق بن يحيى بن طلحة، حدثني عمِّي عيسى بن طلحة، عن عائشة أم المؤمنين، قالت: قال أبو بكر الصِّدّيق: كنتُ أولَ مَن فاءَ إلى رسولِ الله ﷺ، ومعه طلحةُ بنُ عُبيد الله، وإذا طلحةُ قد غَلبَه البَرْدُ ورسولُ الله ﷺ أمثلُ بَلَلًا منه، فقال لنا رسول الله ﷺ: "عليكُم بصاحبِكُم" فتركناهُ وأقبلْنا عليه، وإذا مِغْفَرُه قد عَلِقَ بوَجْنتَيه، وبينَه وبين المَشرقِ رجلٌ أنا أقربُ إلى رسولِ الله ﷺ منه، فإذا هو أبو عُبيدة بن الجَرّاح، فذهبتُ لأَنزعَ المِغفَرَ، فقال أبو عُبيدة: أنشُدُكَ الله يا أبا بكر إلّا تَركْتَني؟ فتركتُه فجَذَبَها فانتُزِعَت ثَنِيَّةُ أبي عُبيدة، قال: فذهبتُ لأنزِعَ الحَلْقةَ الأخرى، فقال لي أبو عُبيدة مثلَ ذلك، فانتزَعَ الحَلْقَةَ الأخرى، فانتُزع ثَنِيَّةُ أبي عُبيدة الأخرى، فقال رسول الله ﷺ: "أمَا إنَّ صَاحِبَكُم قد استَوجَبَ" أو "أوجَبَ طلحةُ" (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5610 - لا والله
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں پہلا شخص تھا جو (احد کے دن) رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹا اور میرے ساتھ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ پر اس وقت غشی طاری تھی جبکہ رسول اللہ ﷺ ان کے مقابلے میں بہتر حالت میں تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی (طلحہ) کو سنبھالو“، چنانچہ ہم نے آپ ﷺ کو چھوڑ دیا اور ان کی طرف متوجہ ہوئے، دیکھا تو ان کی زرہ کے خود (ٹوپی) کے حلقے ان کے رخساروں میں دھنسے ہوئے تھے، اسی دوران مشرق کی جانب سے ایک شخص نمودار ہوا جو مجھ سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے قریب تھا، دیکھا تو وہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، میں خود کے حلقے نکالنے کے لیے آگے بڑھا تو سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے یہ کام کرنے دیں، چنانچہ میں نے انہیں چھوڑ دیا، انہوں نے (اپنے دانتوں سے) اسے کھینچا تو ان کا سامنے کا ایک دانت ٹوٹ گیا، پھر میں دوسرا حلقہ نکالنے کے لیے آگے بڑھا تو سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے پھر ویسا ہی کہا، انہوں نے وہ دوسرا حلقہ بھی نکالا تو ان کا سامنے کا دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ تمہارے ساتھی (طلحہ) نے (جنت) واجب کر لی ہے“ یا ”طلحہ نے «أَوْجَبَ» (جنت واجب) کر لی“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5710
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل إسحاق بن يحيى بن طلحة، فهو متروك كما نبَّه عليه الذهبي في "تلخيصه". وقد تقدَّم برقم (4361) من طريق أخرى عنه.» [ترقيم الرساله 5710] [ترقيم الشركة 5656] [ترقيم العلميه 5610]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل إسحاق بن يحيى بن طلحة، فهو متروك كما نبَّه عليه الذهبي في "تلخيصه". وقد تقدَّم برقم (4361) من طريق أخرى عنه.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند بہت زیادہ ضعیف (ضعیف جداً) ہے اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ کی وجہ سے، وہ "متروک" ہے جیسا کہ ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں متنبہ کیا ہے۔ اور یہ ان کے طریق سے نمبر (4361) پر پہلے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5710 سے ماخوذ ہے۔