کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما جنت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پڑوسی ہوں گے
حَدَّثَنَا محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن النَّضْر الجارُودي، حَدَّثَنَا عبد الله بن سعيد الكِنْدي، حَدَّثَنَا أبو عبد الرحمن النَّضْر بن منصور العَنَزي، حدثني علقمة عُلَاثة اليَشكُري، قال: سمعت عليًّا يقول: سمعتُ إلى أُذني من في رسولِ الله ﷺ وهو يقول: "طلحةُ والزبيرُ جارايَ في الجنة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5562 - غير صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5562 - غير صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ ﷺ کے دہنِ مبارک سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”طلحہ اور زبیر جنت میں میرے پڑوسی ہیں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق بن أبي العَنْبَس القاضي، حَدَّثَنَا علي بن حَكِيم، حَدَّثَنَا شَريك بن عبد الله، عن الأسود بن قيس، عن نُبَيح العَنَزي، عن أبي سعيد الخدري، أنه قال: لا تَسُبُّوا حَوَاريَّ رسول الله ﷺ، فإن كفّارتَهم القتلُ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5563 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5563 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے حواریوں (جانثار ساتھیوں) کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ ان (کی توہین) کا کفارہ قتل ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب حَدَّثَنَا محمد بن سِنان القَزَّاز، حَدَّثَنَا إسحاق بن إدريس، حَدَّثَنَا محمد بن خازم، حَدَّثَنَا هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه، قال: أرسلَني رسول الله ﷺ في غَداةٍ بارِدةٍ، فأتيتُه وهو مع بعضِ نسائه في لِحافِه، فأدخلَني في اللَّحافِ، فصِرْنا ثلاثةً (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5564 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5564 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنے والد (سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک نہایت سرد صبح (کسی کام کے لیے) بھیجا، جب میں (واپس) آپ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے ساتھ ایک ہی لحاف میں تشریف فرما تھے، آپ ﷺ نے مجھے بھی اسی لحاف میں داخل کر لیا اور ہم تینوں (ایک ہی لحاف میں) ہو گئے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا العباس بن الفضل الأَسفاطي، أخبرنا أبو نُعيم ضِرار بن صُرَدٍ، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد الدَّرَاوَرْدي، حَدَّثَنَا محمد ابن عبد الله بن مُسلِم الزُّهْري، عن عمِّه، عن عُرْوة بن الزُّبَير، عن عبد الله بن الزُّبَير، عن الزُّبَير بن العوام، قال: استَعْدَى عليَّ رجلٌ من الأنصار رسولَ الله ﷺ في شِرَاج الحَرّة، فقال: "يا زُبيرُ، اسقِ ثم أرسِلِ الماءَ إلى جارِكَ"، فقال الأنصاريُّ: يا رسول الله، وأن كان ابنَ عمَّتِك، فتلَوّن وَجْهُ رسولِ الله ﷺ، وقال: "يا زُبيرُ، اسقِ ثم احبِسِ الماءَ حتَّى يَبلُغَ الجَدْرَ، ثم أرسِلْ إلى جارك"، فاستوعَبَ رسولُ الله ﷺ للزُّبير الفُتْيا (1). فقال الزُّبير: إني لأحسَبُ هذه الآيةَ نزلَت في خُصومَتي: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ الآية [النساء: 65] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. فإني لا أعلَمُ أحدًا أقام هذا الإسنادَ عن الزُّهْري يَذكُر عبد الله بنَ الزُّبَير، غيرَ ابن أخيه (1)، وهو عنه ضَيِّق. ذكرُ مَقتَل الزُّبَيرِ بن العَوّام
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. فإني لا أعلَمُ أحدًا أقام هذا الإسنادَ عن الزُّهْري يَذكُر عبد الله بنَ الزُّبَير، غيرَ ابن أخيه (1)، وهو عنه ضَيِّق. ذكرُ مَقتَل الزُّبَيرِ بن العَوّام
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری شخص نے حرہ کی ندیوں (کے پانی) کے متعلق رسول اللہ ﷺ کے پاس میرے خلاف مقدمہ پیش کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! (اپنی زمین) سیراب کرو، پھر پانی اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو“، اس پر انصاری نے کہا: یا رسول اللہ! (آپ نے یہ فیصلہ اس لیے کیا) کیونکہ وہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک (غصے سے) متغیر ہو گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! تم (اپنی زمین) سیراب کرو یہاں تک کہ پانی منڈیروں تک پہنچ جائے، پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑنا“، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق عطا فرما دیا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا یہی گمان ہے کہ یہ آیت ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ ”پس (اے نبی!) آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی تنازعات میں آپ کو حکم (فیصلہ کرنے والا) نہ بنا لیں۔“ [سورة النساء: 65] میرے اسی مقدمے کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، میں نہیں جانتا کہ امام زہری سے ان کے بھتیجے کے علاوہ کسی اور نے عبداللہ بن زبیر کا ذکر کرتے ہوئے اس سند کو اس طرح قائم کیا ہو، اور ان سے یہ روایت (سند کے لحاظ سے) تنگ ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، میں نہیں جانتا کہ امام زہری سے ان کے بھتیجے کے علاوہ کسی اور نے عبداللہ بن زبیر کا ذکر کرتے ہوئے اس سند کو اس طرح قائم کیا ہو، اور ان سے یہ روایت (سند کے لحاظ سے) تنگ ہے۔