کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی تعریف
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حَدَّثَنَا زكريا بن عدي، حَدَّثَنَا علي بن مُسهِر، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن مروان، قال: أصابَ عُثمانَ رُعَافٌ سنةَ الرُّعَافِ، حتَّى أَوصى وتَخلَّف عن الحجِّ، فدخل علينا رجلٌ من قُرِيش، فقال: استَخْلِفْ، فقال: وقالوه؟ قال: نعم، قال: ومَن هو؟ فسَكَت، ثم دخلَ عليه آخَرُ، فقال: استَخلِفْ، فذكر نحوًا ممّا ذكَر الأولُ، فقال عثمانُ: الزَّبيرَ؟ قال: نعم، فقال عثمانُ: أما والذي نفسِي بيده إن كان لأخْيَرَهم ما علِمتُ وأحبَّهُم إلى رسول الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5560 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5560 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
مروان سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نکسیر پھوٹنے والے سال (سنة الرعاف) ایسی شدید نکسیر پھوٹی کہ انہوں نے وصیت تک کر دی اور حج پر جانے سے رہ گئے، پھر ہمارے پاس قریش کا ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: آپ کسی کو اپنا جانشین مقرر کر دیں، انہوں نے پوچھا: کیا لوگوں نے یہ بات کہی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ تو وہ خاموش رہا، پھر ان کے پاس ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے بھی پہلے شخص جیسی ہی بات کی، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا زبیر (رضی اللہ عنہ) کو خلیفہ بناؤں؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سن لو! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جہاں تک میں جانتا ہوں وہ ان سب میں سب سے بہتر اور رسول اللہ ﷺ کے نزدیک ان سب میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن البَهِيّ، عن عُروة، قال: قالت لى عائشةُ: يا بُنيّ، إنَّ أباكَ من ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! بے شک تمہارے والد ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ ”جنہوں نے زخم پہنچنے کے بعد بھی اللہ اور رسول کے حکم کو مانا۔“ [سورة آل عمران: 172]“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔