کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سولہ برس کی عمر میں اسلام لائے
أخبرني عبد الحميد بن عبد الرحمن القاضي، حَدَّثَنَا حمّاد بن أحمد القاضي، قال: سمعت أبا بكر بن أبي شَيْبة يقول: حدثني أبو أسامة، عن هشام بن عُرْوة، قال: أسلمَ الزُّبَيرُ وهو ابن ستَّ عشرةَ (3) سنةً، وقُتل وهو ابن بِضْع وستين (4).
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: زبیر رضی اللہ عنہ نے سولہ (16) سال کی عمر میں اسلام قبول کیا، اور جب وہ شہید کیے گئے تو ان کی عمر ساٹھ سے کچھ اوپر (یعنی باسٹھ یا تریسٹھ سال) تھی۔
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن نُمير: أنَّ طلحةَ والزبيرَ بلَغ كلُّ واحدٍ منهما أربعًا وستين (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما میں سے ہر ایک کی عمر چونسٹھ (64) سال تک پہنچی۔
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبَيري، قال: قُتل الزُّبَير وهو ابن سبعٍ وستين سنةً، وكان يُكنَى أبا الطاهر (1).
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ سرسٹھ (67) سال کی عمر میں شہید کیے گئے، اور ان کی کنیت ابو الطاہر تھی۔
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الحسن بن علي بن عَفّان، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن هِشام بن عُروة، قال: قال عُروة بن الزُّبَير: فأخبرني نافع بن جُبير بن مُطعِم، قال: سمعتُ العباس يقول للزبير: يا أبا عبد الله، هاهنا أمركَ رسول الله ﷺ أن تَركُزَ الرايةَ (2).
حافظ طلحہ بابر
نافع بن جبیر بن مطعم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عباس رضی اللہ عنہ کو زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے ابو عبداللہ! رسول اللہ ﷺ نے آپ کو یہیں جھنڈا گاڑنے کا حکم دیا تھا۔“