حدیث نمبر: 5645
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الحسن بن علي بن عَفّان، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن هِشام بن عُروة، قال: قال عُروة بن الزُّبَير: فأخبرني نافع بن جُبير بن مُطعِم، قال: سمعتُ العباس يقول للزبير: يا أبا عبد الله، هاهنا أمركَ رسول الله ﷺ أن تَركُزَ الرايةَ (2).
حافظ طلحہ بابر

نافع بن جبیر بن مطعم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عباس رضی اللہ عنہ کو زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے ابو عبداللہ! رسول اللہ ﷺ نے آپ کو یہیں جھنڈا گاڑنے کا حکم دیا تھا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5645
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.» [ترقيم الرساله 5645] [ترقيم الشركة 5592]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو اسامہ سے مراد "حماد بن اسامہ" ہیں۔
وأخرجه البخاري (2976) عن محمد بن العلاء، و (4280) عن عبيد بن إسماعيل، كلاهما (2976) عن أبي أسامة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے (2976) محمد بن العلاء سے، اور (4280) عبید بن اسماعیل سے روایت کیا ہے، یہ دونوں (2976) میں ابو اسامہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
قال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 12/ 508: هذا السياق يُوهم أنَّ نافعًا حضر المقالة المذكورة يوم فتح مكة، وليس كذلك، فإنه لا صحبة له، ولكنه محمولٌ عندي على أنه سمع العباس يقول للزبير ذلك بعد ذلك في حجةٍ اجتمعوا فيها إما في خلافة عمر أو في خلافة عثمان.
فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر نے "الفتح" 12/ 508 میں فرمایا: "یہ سیاق و سباق اس بات کا وہم پیدا کرتا ہے کہ نافع فتح مکہ کے دن مذکورہ گفتگو کے وقت وہاں موجود تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ انہیں شرفِ صحابیت حاصل نہیں ہے۔ لیکن میرے نزدیک اس بات کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ انہوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے بعد میں کسی حج کے موقع پر سنا ہوگا جس میں وہ اکٹھے ہوئے ہوں گے، خواہ حضرت عمر کے دور خلافت میں یا حضرت عثمان کے دور خلافت میں۔"
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5645 سے ماخوذ ہے۔