کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد گھر ہی میں قیام اختیار کر لیا
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحَسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحُسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، قال: عامرُ بنُ رَبيعة بن مالك بن عامر بن رَبيعة ابن حُجْر (1) بن سَلَامان، وذكر النسَب إلى مَعَدِّ بن عدنان، وكان حليفًا للخطّاب بن نُفَيل، ولما حالَفَه عامرُ بنُ رَبيعة تَبنّاه الخطابُ، وكان يُقال له: عامرُ بنُ الخطّاب، حتَّى أنزلَ اللهُ تعالى ذكرُه: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ [الأحزاب:5]، فأُلحِق بأبيه، ورَجَعَ إلى نَسَبه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5533 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5533 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ بن مالک بن عامر بن ربیعہ بن حجر بن سلامان (ان کا نسب ہے)، اور راوی نے ان کا نسب معد بن عدنان تک ذکر کیا۔ وہ خطاب بن نفیل کے حلیف تھے، اور جب عامر بن ربیعہ ان کے حلیف بنے تو خطاب نے انہیں اپنا منہ بولا بیٹا (متبنیٰ) بنا لیا، جس کی وجہ سے انہیں عامر بن خطاب کہا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ ”ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو“ [سورة الأحزاب: 5] تو انہیں ان کے حقیقی والد کی طرف منسوب کیا گیا اور وہ اپنے اصل نسب کی طرف لوٹ آئے۔
قال ابن عُمر: فحدَّثني محمد بن صالح، عن يزيد بن رُوْمان، قال: أسلَمَ عامرُ بنُ ربيعة قديمًا، قبل أن يدخُلَ رسولُ الله ﷺ دارَ الأرقَم، وقبلَ أن يَدعُوَ فيها، وهاجَرَ عامرُ بنُ ربيعة إلى أرض الحبشة الهجرتَين، ومعه امرأتُه ليلى بنت أبي حَثْمة العَدَوية أخت سليمان بن أبي حَثْمة، وآخَى رسولُ الله ﷺ بين عامرِ بن ربيعة ويزيدَ بن المُنذر بن سَرْحٍ الأنصاري، وكان عامرُ بنُ ربيعة يُكنى أبا عبد الله، وشهد بدرًا وأُحَدًا والخَندق والمشاهِدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ، وتوفي بعدما قُتل عثمانُ ﵁، وكان قد لَزِمَ بيتَه فلم يَشْعُرِ الناسُ إلَّا بجِنازَتِه قد أُخرِجَت (2).
حافظ طلحہ بابر
یزید بن رومان بیان کرتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ کے دارِ ارقم میں داخل ہونے اور وہاں دعوت کا آغاز کرنے سے بھی پہلے اسلام لے آئے تھے۔ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف دونوں ہجرتیں کیں، اور ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ لیلیٰ بنت ابی حثمہ عدویہ (رضی اللہ عنہا) بھی تھیں جو سلیمان بن ابی حثمہ کی بہن تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے عامر بن ربیعہ اور یزید بن منذر بن سرح انصاری رضی اللہ عنہما کے درمیان مواخات (بھائی چارہ) قائم فرمائی تھی۔ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔ انہوں نے غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شرکت کی۔ ان کی وفات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ہوئی۔ وہ اپنے گھر تک محدود ہو گئے تھے، اور لوگوں کو ان کے انتقال کا پتہ اس وقت چلا جب ان کا جنازہ باہر لایا گیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَون، أخبرنا يحيى بن سعيد الأنصاري، عن عبد الله بن عامر بن رَبيعة، قال: لما أخَذَ الناسُ في الطَّعْن على عثمانَ قامَ أبي من الليل، ثم صلَّى ودَعَا، وقال: اللهم قِنِي من الفتنة بما وَقَيتَ به الصالحينَ من عِبادِك، فما خَرَج ولا أصبَحَ إلَّا بجِنازَتِه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5534 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5534 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن سعید انصاری، عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جب لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر طعن و تشنیع کرنے لگے، تو میرے والد رات کے وقت اٹھے، نماز پڑھی اور یہ دعا کی: «اللَّهُمَّ قِنِي مِنَ الْفِتْنَةِ بِمَا وَقَيْتَ بِهِ الصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكَ» ”اے اللہ! مجھے اس فتنے سے اسی طرح محفوظ رکھ جیسے تو نے اپنے نیک بندوں کو محفوظ رکھا ہے۔“ پھر وہ گھر سے باہر نہیں نکلے یہاں تک کہ ان کا جنازہ ہی باہر لایا گیا۔
حدثني أبو زُرْعة الرازي، حَدَّثَنَا أبو سفيان محمد بن عبد الرحمن بن معاوية العُتْبي بمصر، حدثني أبي، حَدَّثَنَا سعيد بن عُفَير، قال: مات سنة اثنتين وثلاثين، وفيها مات عامر بن ربيعة العَدَوي.
حافظ طلحہ بابر
سعید بن عفیر بیان کرتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ عدوی رضی اللہ عنہ کی وفات بتیس (32) ہجری میں ہوئی۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو بن خالد الحَرّاني، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا عبد الله بن لَهِيعة، حَدَّثَنَا أبو الأسْوَد، عن عُروة: ممَّن هاجَر إلى الحَبشةِ الذين خَرجُوا المرةَ الأُولى قبلَ جَعفرٍ وأَصحابِه من بني عَدِيّ بن كعبٍ عامرُ بنُ رَبيعة من أهل اليَمَن، شَهِدَ بدرًا.
حافظ طلحہ بابر
عروہ بیان کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے پہلے پہلی مرتبہ حبشہ کی طرف ہجرت کی، ان میں بنو عدی بن کعب سے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جو اہلِ یمن میں سے تھے۔ اور انہوں نے غزوہ بدر میں بھی شرکت کی تھی۔