حدیث نمبر: 5631
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحَسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحُسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، قال: عامرُ بنُ رَبيعة بن مالك بن عامر بن رَبيعة ابن حُجْر (1) بن سَلَامان، وذكر النسَب إلى مَعَدِّ بن عدنان، وكان حليفًا للخطّاب بن نُفَيل، ولما حالَفَه عامرُ بنُ رَبيعة تَبنّاه الخطابُ، وكان يُقال له: عامرُ بنُ الخطّاب، حتَّى أنزلَ اللهُ تعالى ذكرُه: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ [الأحزاب:5]، فأُلحِق بأبيه، ورَجَعَ إلى نَسَبه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5533 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ بن مالک بن عامر بن ربیعہ بن حجر بن سلامان (ان کا نسب ہے)، اور راوی نے ان کا نسب معد بن عدنان تک ذکر کیا۔ وہ خطاب بن نفیل کے حلیف تھے، اور جب عامر بن ربیعہ ان کے حلیف بنے تو خطاب نے انہیں اپنا منہ بولا بیٹا (متبنیٰ) بنا لیا، جس کی وجہ سے انہیں عامر بن خطاب کہا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ ”ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو“ [سورة الأحزاب: 5] تو انہیں ان کے حقیقی والد کی طرف منسوب کیا گیا اور وہ اپنے اصل نسب کی طرف لوٹ آئے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5631
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5631] [ترقيم الشركة 5579] [ترقيم العلميه 5533]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وفي بعض مصادر ترجمته: حُجير. وقال غيرهم من علماء النسب والرجال: حجر.
نوٹ / توضیح: (1) ان کے حالاتِ زندگی (ترجمہ) کے بعض مصادر میں نام "حجیر" آیا ہے، جبکہ دوسرے علماءِ نسب و رجال نے "حجر" کہا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5631 سے ماخوذ ہے۔