حدیث نمبر: 5632
قال ابن عُمر: فحدَّثني محمد بن صالح، عن يزيد بن رُوْمان، قال: أسلَمَ عامرُ بنُ ربيعة قديمًا، قبل أن يدخُلَ رسولُ الله ﷺ دارَ الأرقَم، وقبلَ أن يَدعُوَ فيها، وهاجَرَ عامرُ بنُ ربيعة إلى أرض الحبشة الهجرتَين، ومعه امرأتُه ليلى بنت أبي حَثْمة العَدَوية أخت سليمان بن أبي حَثْمة، وآخَى رسولُ الله ﷺ بين عامرِ بن ربيعة ويزيدَ بن المُنذر بن سَرْحٍ الأنصاري، وكان عامرُ بنُ ربيعة يُكنى أبا عبد الله، وشهد بدرًا وأُحَدًا والخَندق والمشاهِدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ، وتوفي بعدما قُتل عثمانُ ﵁، وكان قد لَزِمَ بيتَه فلم يَشْعُرِ الناسُ إلَّا بجِنازَتِه قد أُخرِجَت (2).
حافظ طلحہ بابر

یزید بن رومان بیان کرتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ کے دارِ ارقم میں داخل ہونے اور وہاں دعوت کا آغاز کرنے سے بھی پہلے اسلام لے آئے تھے۔ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف دونوں ہجرتیں کیں، اور ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ لیلیٰ بنت ابی حثمہ عدویہ (رضی اللہ عنہا) بھی تھیں جو سلیمان بن ابی حثمہ کی بہن تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے عامر بن ربیعہ اور یزید بن منذر بن سرح انصاری رضی اللہ عنہما کے درمیان مواخات (بھائی چارہ) قائم فرمائی تھی۔ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔ انہوں نے غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شرکت کی۔ ان کی وفات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ہوئی۔ وہ اپنے گھر تک محدود ہو گئے تھے، اور لوگوں کو ان کے انتقال کا پتہ اس وقت چلا جب ان کا جنازہ باہر لایا گیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5632
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5632] [ترقيم الشركة 5579]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) قد خُولف محمد بن عمر الواقدي في تاريخ وفاة عامر بن ربيعة، فإنَّ مقتضى قوله أنَّ عامرًا توفي سنة خمس وثلاثين، ويخالفه قول مصعب الزبيري عند أبي نعيم في "معرفة الصحابة" (5147)، وابن عساكر 25/ 328، وقول سعيد بن كثير بن عُفير الآتي برقم (5634): أنه مات سنة اثنتين وثلاثين، وهو قول أبي عبيد القاسم بن سلام كما عند ابن عساكر 25/ 329، وقال أبو الحسن المدائني فيما نقله عنه ابن زَبْر الرَّبَعي في "مولد العلماء ووفياتهم" 1/ 122: توفي سنة ثلاث وثلاثين.
فنی نکتہ / علّت: (2) عامر بن ربیعہ کی تاریخ وفات میں محمد بن عمر الواقدی کی مخالفت کی گئی ہے۔ ان کے قول کا تقاضا یہ ہے کہ عامر سن پینتیس (35) ہجری میں فوت ہوئے، جبکہ مصعب الزبیری کا قول (ابو نعیم کی "معرفۃ الصحابہ" 5147 اور ابن عساکر 25/ 328 میں) اور سعید بن کثیر بن عفیر کا قول (جو آگے رقم 5634 پر آرہا ہے) اس کے مخالف ہے کہ وہ سن بتیس (32) ہجری میں فوت ہوئے۔ یہی قول ابو عبید القاسم بن سلام کا بھی ہے (جیسا کہ ابن عساکر 25/ 329 میں ہے)۔ اور ابو الحسن المدائنی نے فرمایا (جیسا کہ ابن زبر الریعی نے "مولد العلماء ووفیاتہم" 1/ 122 میں نقل کیا) کہ وہ سن تنتیس (33) ہجری میں فوت ہوئے۔
قلنا: وهو قول خليفة في "تاريخه" ص 168، وابن حبان في "الثقات" 3/ 290.
حوالہ / مصدر: ہم کہتے ہیں: یہی قول خلیفہ کا ان کی "تاریخ" ص 168 میں اور ابن حبان کا "الثقات" 3/ 290 میں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5632 سے ماخوذ ہے۔