کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اس بات پر بیعت کہ ہم اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کریں گے
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العدلُ، حَدَّثَنَا هِشام بن علي، حَدَّثَنَا حُسينُ بن محمد، حَدَّثَنَا شَيبانُ، عن قَتَادة، عن سُليمانَ اليَشْكُري، عن أبي الأَشْعَثِ، عن عُبادة بن الصامت، قال: بايَعْنا رسولَ الله ﷺ على أن لا نخافَ في الله لومةَ لائم (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5526 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابوالاشعث سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہم اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5624
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن قتادة لم يسمع من سليمان بن قيس اليشكري. أبو الأشعث: هو شَراحيل بن آدَة الصَّنْعاني، وشيبان هو ابن عبد الرحمن النحوي.» [ترقيم الرساله 5624] [ترقيم الشركة 5572] [ترقيم العلميه 5526]
حدثني أبو عمرو بن إسماعيل، حَدَّثَنَا يعقوب بن إسحاق المِهْرَجاني، حدثني أحمد بن عبد الوهاب بن نَجْدة، حَدَّثَنَا أبو المُغيرة، حَدَّثَنَا بِشر بن عبد الله بن يَسَار (1)، حدثني عُبادة بن نُسَيّ، عن جُنادة بن أبي أُمية، عن عُبادة بن الصامت، قال: كان رسولُ الله ﷺ شُغِلَ، فإذا قدم الرجلُ وقد أسلَمَ على يدِ رسول الله ﷺ دَفَعَهُ إلى رجل منّا ليُعلِّمَه القرآنَ، فدفع إليَّ رسولُ الله ﷺ رجلًا كان معي في البيت، وكنتُ أُقرِئه القرآنَ، فرأى أنَّ لي عليه حقًّا، فأهدى إليَّ قوسًا ما رأيتُ أجودَ منها ولا أحسنَ منها عِطَافًا، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فقلتُ: ما تَرى يا رسولَ الله فيها، فقال: "جَمْرَةٌ بَين كَتِفَيكَ تَقلَّدْتَها؛ أو تَعَلَّقْتَها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5527 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
جنادہ بن ابی امیہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب (دیگر امور میں) مشغول ہوتے اور کوئی شخص اسلام قبول کر کے آتا تو آپ ﷺ اسے ہم میں سے کسی شخص کے حوالے کر دیتے تاکہ وہ اسے قرآن مجید سکھائے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو میرے حوالے کیا جو میرے ساتھ گھر میں ہی رہتا تھا، اور میں اسے قرآن پڑھاتا تھا۔ اس نے یہ سمجھا کہ میرا اس پر کوئی حق (احسان) ہے، چنانچہ اس نے مجھے ایک کمان ہدیہ کی، میں نے اس سے زیادہ عمدہ اور بہترین لچک والی کمان کبھی نہیں دیکھی تھی۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ اس (کمان) کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہارے دونوں کندھوں کے درمیان (آگ کا) ایک انگارہ ہے جسے تم نے لٹکا لیا ہے، یا اپنے گلے میں پہن لیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5625
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسنٌ من أجل بشر بن عبد الله بن يَسَار
تخریج حدیث «إسناده حسنٌ من أجل بشر بن عبد الله بن يَسَار، فهو صدوق حسن الحديث.» [ترقيم الرساله 5625] [ترقيم الشركة 5573] [ترقيم العلميه 5527]